خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 312

خطبات مسرور جلد نهم 312 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء میں سے کسی نے کہا حضرت خود ہی فرمائیے۔تو فرمانے لگے کہ میں مسیح دا چپڑاسی ہوں۔میں اس خوشی میں آکر ناچ رہا ہوں کہ میں مسیح کا چپڑاسی ہوں۔(ماخوذ از روایات حضرت نظام الدین صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 104،103 غیر مطبوعہ ) حضرت میاں امیر الدین صاحب احمدی گجراتی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے قرضدار ہونے کی شکایت حضرت صاحب کے پاس کی۔آپ نے فرمایا کہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرو۔اب وہ بہت سارے لوگ جو اپنے مسائل کے بارہ میں لکھتے ہیں، معاشی مسائل کے بارے میں لکھتے ہیں، اُن کو عموماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہی بتاتے تھے کہ پانچ نمازیں پڑھا کرو اور درود شریف پڑھا کرو۔فرمایا کہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو۔بس یہی میر اوظیفہ تھا کہ مجھ کو مولیٰ کریم نے برکت دی اور قرض سے پاک ہو گیا۔اور جب میں قادیان میں آتا تھا تو چھوٹی مسجد میں جو اس وقت بڑی ہو چکی تھی (یعنی مسجد مبارک) جبکہ چھ آدمی صف میں اُس میں کھڑے ہوتے تھے۔اوقاتِ نماز میں اُس مسجد میں میں کھڑکی کے آگے بیٹھ رہتا تھا۔(اُس کھڑکی سے جہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے تھے۔) اس غرض سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس میں سے آتے تھے تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کے لئے تشریف لاتے تو میں فوراً کھڑا ہو جاتا اور نماز میں آپ کے بائیں بازو کے ساتھ کھڑا ہوتا اور یہ وہ وقت تھا جبکہ ساتھ ہی کا کمرہ جو مسجد کے ساتھ ہے اس میں حضرت صاحب اور چند مہمان جو اُس وقت ہوا کرتے تھے جو پانچ سے زائد نہ ہوتے تھے ، اس کمرے میں آپ چاول یا کھانا اپنے ہاتھ سے خود کھلاتے تھے۔تمام پیشگوئیاں میرے سامنے پوری ہوئیں اور میں اُن کا گواہ ہوں۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں امیر الدین صاحب احمدی گجراتی رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 189 غیر مطبوعہ ) کہتے ہیں پھر میں یہ بھی ایک موقعہ عرض کئے دیتا ہوں کہ جب طاعون کے متعلق جلسہ ہوا ہے تو میں بھی اُس میں شریک تھا اور وہ بوہر“ جو قادیان سے مشرق کی طرف جھیل کے کنارے پر ہے اُس کے نیچے جا کر جلسہ ہوا تھا اور آپ نے اس بوہڑ کے نیچے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی تھی۔میرے قیاس میں اس وقت جلسے میں شریک ہونے والے آدمی قریباً تین چار سوتھے ، کمی و بیشی واللہ اعلم۔پھر اس کے بعد میں نے جماعت کو بڑھتے ہوئے دیکھا اور وہ وقت آگیا کہ جب جلسہ دسمبر کے مہینے میں قائم کیا گیا تو بہت خلقت آنے لگی۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں امیر الدین صاحب احمدی گجراتی رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 191 غیر مطبوعہ ) ایک دن شام کے وقت کھانا کھلانے کے واسطے یہ تجویز تھی کہ حضرت صاحب نے حکم دیا ہوا تھا اور اس مکان پر جو کہ چھتی ہوئی گلی کے مغرب کی طرف ہے وہاں کھلایا گیا، اور اس وقت ایک ضلع کے آدمیوں کو بند کر کے کھانا کھلاتے تھے ، اُس وقت گوجرانوالہ کے آدمی کھا رہے تھے اور دروازہ بند تھا۔میں بھوک سے تنگ آکر اُس جگہ گیا، مجھے داخل نہ کیا گیا۔میں واپس آکر بھو کا سورہا۔رات کو حضرت صاحب کو الہام ہوا۔( انہوں نے جو لکھا ہے۔يَايُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمِ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَر)۔تذکرہ میں جو الہام ہے اور دوسری روایات میں بھی یايُّهَا النَّبِيُّ