خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 306
306 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ان کو نہ کرنا ہی نیکی نہ جان لو) بلکہ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ـ فرما کر بتلا دیا کہ نیکی اور انعام ایک الگ شے ہے۔جب تک اُسے حاصل نہ کرے گا تب تک نیک اور صالح نہیں کہلائے گا۔دیکھو خدا تعالیٰ نے یہ دعا نہیں سکھلائی کہ تو مجھے فاسقوں اور فاجروں میں داخل نہ کر اور اسی پر بس نہیں کیا۔بلکہ یہ سکھلایا کہ انعام والوں میں داخل کر “۔(البدر 10 جنوری 1905ء نمبر 1 جلد 4 صفحہ 3۔کالم 1 تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (سورۃ الفاتحہ) جلد اول صفحہ 287) پس جیسا کہ میں نے کہا صرف ایک آدھ نیکی نہیں بلکہ ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ حقیقی نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرے اور یہ حقیقی نیکیوں کا ذخیرہ اللہ تعالیٰ اور بندوں، دونوں کے حقوق ادا کرنے سے ہی ملتا ہے۔قرآنِ کریم کے احکامات پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”یقینا سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ہے۔جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہو تا ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے۔لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اُسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔(اگر خدا تعالیٰ پر حقیقی ایمان ہے تو پھر یہ یقینی بات ہے کہ وہ گناہ نہیں کرے گا) کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضاء کو کاٹ دیتا ہے۔دیکھو اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جائیں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے“ (آنکھیں ہی نہیں تو بد نظری کیا کرنی ہے) ” اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا۔اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جائیں ، شہوانی قوی کاٹ دیئے جائیں پھر وہ گناہ جو ان اعضاء سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے۔ٹھیک اسی طرح پر جب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اُسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی۔وہ دیکھتا ہے پر نہیں دیکھتا کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سُن سکتا۔اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں۔اُس کی ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اُٹھا سکتا۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اُسے دیا جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہئے“۔فرمایا ” اور ہماری جماعت کو اس کی ضرورت ہے۔اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے“۔فرماتے ہیں پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں“۔(ملفوظات جلد 3 صفحہ 504)