خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد نهم 305 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء اور ہے اور عمل کچھ اور ہے۔پس ہر دعا کے ساتھ کوشش اور نیک نیت شرط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :72) جو ہمارے راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اُس کو اپنی راہیں دکھلا دیں گے “۔فرمایا یہ تو وعدہ ہے اور اُدھر یہ دعا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سو انسان کو چاہئے کہ اس کو مد نظر رکھ کر نماز میں بالحاح دعا کرے“۔(بڑے الحاح کے ساتھ دعا کرو) اور تمنا رکھے کہ وہ بھی اُن لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ اس جہان سے بے بصیرت اور اندھا اُٹھایا جاوے“۔(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 38-39 مطبوعہ قادیان 1899ء) پس اب جبکہ ایک لحاظ سے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بصیرت عطا فرما دی کہ اللہ اور اُس کے رسول کے پیغام کو سمجھ کر زمانے کے امام سے ہم جڑ گئے ہیں ، مان لیا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ ترقی کے راستے ہمیشہ کھلے ہیں اور روحانی مدارج تو ہمیشہ طے ہوتے چلے جاتے ہیں، آپ کے قدم ترقی کی طرف بڑھنے چاہئیں۔آپ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ جماعت میں داخل ہو کر اپنے اندر ایک تغیر قائم کرو اور وہ نظر بھی آنا چاہئے۔کسی بھی حکم کو خفت کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 472) پس قرآن شریف کے سینکڑوں احکامات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کے لئے کوشش کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہر انسان خود اپنے جائزے لے سکتا ہے اور کوشش کر سکتا ہے۔اور اگر احساس ہے تو سب سے بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ خود اپنے جائزے لے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان کا دل آئینہ ہو تا ہے ذرا اپنے دل کے آئینے کو صاف کر کے اس میں اپنے چہرے دیکھیں، اس میں اپنے دلوں کی کیفیت دیکھیں تو ہر ایک کو اُس کے اندر کی کیفیت نظر آجائے گی۔دوسروں پر اعتراض ختم ہو جائیں گے اور اپنی اصلاح کی طرف ہی توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔اور خود اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کو سمجھ کر پڑھنے کی طرف توجہ ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ اندرونی جائزے کی تبدیلی ہے جو میں جماعت میں چاہتا ہوں۔پس یہ جائزے ہمیں عہد بیعت اور ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے رہیں گے۔جیسا کہ ذکر ہوا ہے کہ حقیقی مومن وہ ہے جو ایمان میں ترقی کے لئے کوشاں ہے۔اب مومن ہونے کے جو معیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر فرمائے ہیں وہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”جب تک کسی کے پاس حقیقی نیکیوں کا ذخیرہ نہیں ہے“ (ایک دو نیکیاں نہیں حقیقی نیکیوں کا ذخیرہ نہیں ہے) تب تک وہ مومن نہیں ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا تعلیم فرمائی ہے کہ انسان چوری، زنا وغیرہ موٹے موٹے بُرے کاموں کو ترک کرنا ہی نیکی نہ جان لے“۔( بڑے بڑے گناہ جو ہیں