خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 296

296 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہیں۔سو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد کوئی نئے مجدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب پورا ایک ہزار سال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی مجدد ہیں جس کا آپ نے خود ذکر فرمایا ہے۔اور اس کے لئے ہمیں آپ کا بھر پور دست و بازو بنے کی ضرورت ہے تاکہ اصل تعلیم کو دنیا کے سامنے نکھار کر پیش کریں۔اس زمانے کے امام اور مسیح و مہدی اور مجددالف آخر کو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان مہیا فرما دیئے ہیں۔ہم نے صرف دنیا کی تربیت کے لئے اُن کو آگے پہنچانا ہے۔اس لئے ہر وہ شخص جو اس خوبصورت تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے میں کوشاں ہو گا اور پھیلانے کی طرف توجہ دے رہا ہے آپ کا اور آپ کی خلافت کا سلطان نصیر بن رہا ہے اور وہ تجدید کا ہی کام کر رہا ہے۔پس ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اس کام کو ہم آگے بڑھانے والے ہوں اور اسلام کی فتح کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت ایک افسوسناک اطلاع ہے۔ابھی جمعہ کے بعد ایک جنازہ ہے جو میں پڑھاؤں گا۔یہ مکرم خیر الدین باروس صاحب آف انڈونیشیا کا ہے۔یہ 1947ء میں Medan انڈو نیشیا میں پیدا ہوئے اور 1971ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق پائی۔1973ء میں انہوں نے جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخلہ لیا۔اور فصل خاص میں داخل ہوئے۔پھر اردو زبان سیکھی۔پھر مسلسل محنت کے ساتھ پڑھائی کرتے ہوئے آپ 1982ء میں جامعہ سے شاہد ڈگری حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔آپ کی پہلی تقرری انڈونیشا میں بطور مبلغ سلسلہ جون 1982ء میں اپنے آبائی شہر Medan میں ہوئی۔پھر 83ء میں چار ماہ کے لئے ملائشیا بھجوایا گیا، جہاں انہوں نے کوالا لمپور میں مسجد کی تعمیر کا کام کروایا۔ملائشیا سے واپسی پر 1993ء میں آپ کو انڈو نیشیا کی مختلف جماعتوں میں بطور مبلغ خدمت کی توفیق ملی۔1993ء سے 1998 ء تک آپ بطور مشنری انچارج فلپائن کام کرتے رہے۔98ء سے آپ کی تقرری پاپوا نیو گنی میں بطور مبلغ انچارج ہوئی اور اپنی وفات تک آپ وہیں خدمت کی توفیق پارہے تھے۔6 جون 2011ء کو مختصر علالت کے بعد بقضائے الہی وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ خیر الدین باروس صاحب ایک مخلص ، اطاعت شعار اور کامل وفا اور وقف کی روح کے ساتھ خدمت دین بجالانے والے مبلغ سلسلہ تھے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ان کے ذریعے سے بہت سی جماعتیں قائم ہوئیں۔مساجد تعمیر ہوئیں۔جماعت نے جو بھی کام ان کے سپرد کیا بڑی ذمہ داری اور خوش اسلوبی سے انہوں نے ادا کیا۔موصی بھی تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی کافی شادیاں تھیں اور اس وقت آپ کی تین بیویاں ہیں اور گل بچوں کی تعداد چودہ ہے جن میں آٹھ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ سب لواحقین کو صبر کی توفیق عطا فرمائے اور باروس صاحب کے درجات بلند کرے۔اور نیک اور صالح اور خادمِ دین ان کی نسل میں سے بھی پیدا ہوتے رہیں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ یکم جولائی تا 7 جولائی 2011 ء جلد 18 شمارہ 26 صفحہ 5 تا 8)