خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 291
291 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مجد دین آتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعویٰ پیش فرمایا کہ جب پہلے مجد دین آتے رہے تو اس صدی میں کیوں نہیں؟ اس صدی میں بھی مجدد آنا چاہئے۔اور فرمایا کہ میرے علاوہ کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں اس زمانے کا مجدد ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود بھی ہوں اور مسیح موعود کو کیونکہ نبی کا درجہ ملا ہے اس لئے کامل مجدد ہوں۔اور چودھویں صدی کا مجد د ہونے کی حیثیت سے، مسیح و مہدی ہونے کی حیثیت سے عظیم الشان مجدد تھے جس کی پیشگوئیاں پہلے نبیوں نے بھی کی ہیں۔یہ بات اپنی صداقت کے طور پر آپ اُن مخالفین کو فرمارہے ہیں جو کہتے تھے کہ آپ کا دعویٰ غلط ہے۔پس یہ آپ کی شان ہے اور اس حوالے سے ہمیں ان سارے حوالوں کو پڑھنا چاہئے۔اب آپ کی اس شان کو اگر سامنے رکھا جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو خلافت کے قیام کے بارے میں حدیث پیش کی جاتی ہے اُس کو سامنے رکھا جائے تو آئندہ آنے والے مسجد دین کا معاملہ حل ہو جاتا ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور واضح ارشاد ہے۔آپ نے لیکچر سیالکوٹ میں ایک جگہ فرمایا کہ یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجددِ صدی بھی ہے اور مجد دالف آخر بھی۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 208) الف آخر کا مطلب ہے کہ آخری ہزار سال۔اس کی وضاحت آپ نے یہ فرمائی کہ ہمارے آدم کا زمانہ سات ہزار سال ہے اور ہم اس وقت آخری ہزار سال سے گزر رہے ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے کے ایک ہزار سال کو اندھیر اسال فرمایا تھا، اندھیر از مانہ ہو گا اور پھر مسیح و مہدی کا ظہور ہو گا چودھویں صدی میں، اور پھر مسیح و مہدی کے ظہور کے ساتھ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہو گی۔اُس اندھیرے ایک ہزار سال میں کئی مجد دین پیدا ہوتے رہے۔مختلف علاقوں میں مجد دین پیدا ہوتے رہے۔لیکن اُن کی حیثیت چھوٹے چھوٹے لیمپوں کی تھی جو اپنے علاقے کو روشن کرتے رہے، اپنے وقت اور صدی تک محدود رہے، بلکہ ایک ایک وقت میں کئی کئی آتے رہے۔لیکن یہ اعزاز اس عظیم الشان مجدد کو ہی حاصل ہوا کہ اُس کو آخری ہزار سال کا مجدد کہا گیا۔آپ کا اعزاز صرف ایک صدی کا مجدد ہونے کا نہیں بلکہ آخری ہزار سال کا مجدد ہونے کا ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی کا یہ آخری ہزار سال تھا۔تو آپ نے ایک جگہ پر فرمایا کہ چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے یہ ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پید اہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اُس کے لئے بطور ظل کے ہو۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 208) اُس کے زیر نگین ہو گا، اُس کے تابع ہو گا۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق صدی میں مجدد آسکتے ہیں آتے رہے ہیں اور آئندہ بھی آسکتے ہیں لیکن آپ کے ظل کے طور پر۔اور جس خلل کی آپ نے بڑے واضح طور پر نشاندہی فرمائی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ہے اور وہ حدیث یہ ہے: حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جب تک اللہ تعالیٰ