خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 290

خطبات مسرور جلد نهم 290 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء پس آپ کا یہ جو مقام ہے صرف مجددیت کا نہیں ہے بلکہ مہدویت اور مسیحیت کا مقام بھی ہے اور اس کی وجہ سے نبوت کا مقام بھی ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”اس میں کس کو کلام ہو سکتا ہے کہ مہدی کا زمانہ تجدید کا زمانہ ہے اور خسوف کسوف اُس کی تائید کے لئے ایک نشان ہے۔سو وہ نشان اب ظاہر ہو گیا جس کو قبول کرنا ہو قبول کرے“۔حمتہ اللہ ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 160) اور یہ خسوف و کسوف کا نشان، چاند گرہن اور سورج گرہن کا نشان جس کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سے کہ زمین و آسمان بنے ہیں یہ نشان کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوا۔(سنن الدارقطنی جزو دوم صفحه 51 كتاب العيدين باب صفة صلاة الخسوف والكسوف وهيئتهما حديث 1777 دارالکتب العلمیة بیروت 2003ء) یہ صرف ہمارے مہدی کا نشان ہے اُس مہدی کا جس کا مقام بہت بلند ہے ، صرف مجددیت کا مقام نہیں ہے بلکہ بہت بلند مقام ہے۔اس بات کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف چودھویں صدی کے مجدد نہیں بلکہ مسیح و مہدی بھی ہیں۔باوجود اس کے کہ آپ کو تجدید دین کے کام کے لئے بھیجا گیا ہے اور ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے لیکن مقام آپ کا بہت بلند ہے اور مسجد دیت سے بہت بالا مقام ہے۔گو آپ نے یہ فرمایا کہ چو دھویں صدی کا مجدد میں ہوں لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس مقام کی وجہ سے آپ کو نبوت کا درجہ بھی ملا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : جاننا چاہئے کہ اگر چہ عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدائے تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اُس کے دین کو نیا کرے گا۔لیکن چودھویں صدی) کے لئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو گا، اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہو سکتا“۔(نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 378) پھر فرمایا: ”خدا نے اس رسول کو یعنی کامل مجدد کو اس لئے بھیجا ہے کہ تا خدا اس زمانہ میں یہ ثابت کر کے دکھلا دے کہ اسلام کے مقابل پر سب دین اور تمام تعلیمیں بیچ ہیں“۔(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 266) پس ایک تو آپ کا یہ مقام ہے کہ آپ عظیم الشان مجدد ہیں اور کامل مجدد ہیں۔آپ علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی خلافت یا مجددیت تو حضرت عیسی پر آکر ختم ہو گئی تھی۔(ماخوذ از تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 123) لیکن اسلام کی تعلیم کو ترو تازہ رکھنے کے لئے ہر صدی میں مجددین کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تاکہ بدعات جو سو سال کے عرصے میں دین میں داخل ہوئی ہوں یا برائیاں جو شامل ہوئی ہوں، دین کی اصلاح کی ضرورت ہو، اُن کی اصلاح کر سکے۔جو کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں وہ دور ہوتی رہیں۔اور اسلام کی تاریخ شاہد ہے کہ اسلام میں اس خوبصورت تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے اس کو اصلی حالت میں رکھنے کے لئے