خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 289
289 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے مختلف موقعوں پر مختلف اولیاء اور مسجد دین پیدا کئے جو اپنے اپنے دائرے میں دین کی روشنی کو پھیلاتے رہے، کیونکہ اس دین کو اللہ تعالیٰ قائم رکھنا چاہتا تھا جبکہ باقی دینوں کے ساتھ ایسی کوئی ضمانت نہیں تھی اور اسی لئے اُن میں ایسی آلائشیں شامل ہو گئیں جن سے وہ دین بگڑ گئے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: تمام زمانہ کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے اسی واسطے خدا تعالیٰ نے اس زمانے میں وہ مجدد بھیجا ہے جس کا نام مسیح موعود ر کھا گیا ہے اور جس کا انتظار مدت سے ہو رہا تھا اور تمام نبیوں نے اس کے متعلق پیشگوئیاں کی تھیں اور اس سے پہلے زمانہ کے بزرگ خواہش رکھتے تھے کہ وہ اُس کے وقت کو پائیں“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 82) اب یہاں جو مجدد جس کے لئے آپ فرما رہے ہیں وہ وہ مجد د ہے جو مسیح موعود ہے جس کا انتظار کیا جارہا تھا۔کوئی ایسا مجدد نہیں جس کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہو کہ اُس کا انتظار ہے سوائے مسیح موعود کے۔جس کی پرانے نبیوں نے بھی خبر دی اور پیش خبری فرمائی، کیونکہ اس کا زمانہ وہ آخری زمانہ ہے جس میں دین کی اشاعت ہونی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام دنیا میں پھیلنا ہے ، پیغام دنیا میں پھیلنا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھر اہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔اب یہاں الفاظ پر غور کریں کہ تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ۔۔۔اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔تب میں نے اُس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھاوہ میں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اُس کو دوبارہ قائم کروں“۔(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 3) یہ مجدد کا کام ہے، تبلیغ حق اور اصلاح اس کا پہلے ذکر فرمایا۔ایمان جو اُٹھ گیا تھا اس کو دوبارہ قائم کرنا۔اور اس ایمان اُٹھنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو ایک رجل فارس پید اہو گا جو اُس کو زمین پر لے کر آئے گا۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” اور خدا سے قوت پاکر اُسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کی اصلاح اور تقویٰ اور راست بازی کی طرف کھینچوں دنیا کو اصلاح اور تقویٰ اور راست بازی کی طرف کھینچوں ” اور اُن کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گزرے تو بذریعہ وحی الہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امت کے لئے ابتدا سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانے میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اُس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں“۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 3-4)