خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد نهم 288 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء ہے یا اُس حوالے سے بات کی جاتی ہے۔لیکن بعد میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیت کچھ اور تھی۔خاص طور پر خلافتِ ثالثہ میں یہ ثابت ہوا کہ اس کے پیچھے ایک فتنہ تھا۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ ہے کہ آپ کے بعد آپ کی جاری خلافت کے لئے بھی وہ زبر دست قدرت کا ہاتھ دکھائے گا۔(ماخوذ از رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304) اس لئے ایسے فتنے جب بھی اُٹھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ختم کر دیئے کیونکہ جماعت کی اکثریت اُن کا ساتھ دینے والی نہیں تھی۔گو آج یہ فتنہ اس طرح تو نہیں ہے جو تکلیف دہ صور تحال حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کے لئے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن بہر حال کیونکہ سوال اکاڈ کا اُٹھتے رہتے ہیں اس لئے اس کی تھوڑی سی وضاحت کر دیتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ہر صدی میں تجدید دین کے لئے مجد دکھڑے ہوں گے۔(سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما یذ کرفی قرن المائة حدیث 4291) اور وہاں جو الفاظ ہیں اُس میں صرف واحد کا صیغہ نہیں ہے بلکہ اُس کے معنی جمع کے بھی ہو سکتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اپنے دعوے کی صداقت کے طور پر بھی پیش فرمایا ہے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ حوالے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس بارہ میں آپ کے ارشادات اور تحریرات تو بے شمار ہیں جن کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے، تاہم چند حوالے جیسا کہ میں نے کہا کہ میں پیش کرتاہوں۔اگر ان کو غور سے دیکھا جائے تو آئندہ آنے والے مجددین کے بارہ میں بھی بات واضح ہو جاتی ہے۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سر سبز رہے اس لئے اُس نے ہر یک صدی پر اس باغ کی نئے سرے آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا۔اگر چہ ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کیلئے قائم ہوا جاہل لوگ اُس کا مقابلہ کرتے رہے اور اُن کو سخت ناگوار گزرا کہ کسی ایسی غلطی کی اصلاح ہو جو اُن کی رسم اور عادت میں داخل ہو چکی ہے“۔یہ شور مچانے والے پہلے شور بھی مچاتے ہیں پھر مخالفت بھی کرتے ہیں تو بہر حال فرماتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اس آخری زمانہ میں جو ہدایت اور ضلالت کا آخری جنگ ہے خدا نے چودھویں صدی اور الف آخر کے سر پر مسلمانوں کو غفلت میں پاکر پھر اپنے عہد کو یاد کیا۔اور دین اسلام کی تجدید فرمائی۔مگر دوسرے دینوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تجدید کبھی نصیب نہیں ہوئی۔اس لئے وہ سب مذہب مر گئے۔ان میں روحانیت باقی نہ رہی اور بہت سی غلطیاں اُن میں ایسی جم گئیں کہ جیسے بہت مستعمل کپڑہ پر جو کبھی دھویا نہ جائے میل جم جاتی ہے۔اور ایسے انسانوں نے جن کو روحانیت سے کچھ بہرہ نہ تھا اور جن کے نفس امارہ سفلی زندگی کی آلائشوں سے پاک نہ تھے اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق ان مذاہب کے اندر بے جاد خل دے کر ایسی صورت اُن کی بگاڑ دی کہ اب وہ کچھ اور ہی چیز ہیں“۔(لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 203-204) تو آپ واضح یہ فرمارہے ہیں کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے اس روشنی کو قائم کرنے کے لئے جو آنحضرت