خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 287

خطبات مسرور جلد نهم 287 23 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 2011ء بمطابق 10 احسان 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: 27 مئی کے خطبے میں میں نے قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کے حوالے سے جماعت میں خلافت کے جاری نظام کی بات کی تھی۔اس سلسلے میں اُس وقت میں مسجد دین کے حوالے سے بھی کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن چونکہ مضمون تھوڑی سی تفصیل چاہتا تھا اس لئے بھی اور کچھ میں مزید حوالے دیکھنا چاہتا تھا، اس لئے میں نے اُس دن بیان نہیں کیا، اِس بارے میں آج کچھ بیان کروں گا۔کچھ عرصہ ہوا وقف نو کلاس میں ایک بچے نے سوال کیا کہ کیا آئندہ مجدد آسکتے ہیں ؟ اس سے مجھے خیال آیا کہ یہ سوال یا تو بعض گھروں میں پیدا ہوتا ہے کیونکہ بچوں کے ذہنوں میں اس طرح سوال نہیں اُٹھ سکتے۔یا بعض وہ لوگ جو جماعت کے بچوں اور نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرنا چاہتے ہیں سوال پیدا کرواتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آپ نے ہر صدی کے سر پر مجدد آنے کا فرمایا(سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما يذكر في قرن المائة حديث 4291) اور جماعت میں مختلف وقتوں میں یہ سوال اُٹھتے رہے ہیں ، جماعت کے مخلصین میں نہیں، بلکہ ایسے لوگ جو جماعت میں رخنہ ڈالنے والے ہوں اُن لوگوں کی طرف سے یہ سوال اُٹھائے جاتے رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس بارے میں مختلف موقعوں پر وضاحت فرمائی ہے۔پھر خلافت ثالثہ میں یہ سوال بڑے زور و شور سے اُٹھایا گیا، اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مختلف موقعوں پر اور خطبات میں اس پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے۔پھر خلافت رابعہ میں بھی حضرت خلیفہ المسیح الرابع سے بھی یہ سوال کیا گیا۔بہر حال یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو وقتاً فوقتاً اُٹھایا جاتا ہے یا ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے، یا پیدا ہو تا رہا ہے۔اور منافق طبع لوگ جو ہیں اُن کی یہ نیت رہی ہے کہ کسی طرح جماعت میں بے چینی پیدا کی جائے کہ خلافت اور مجددیت میں کیا فرق ہے ؟ اس بارے میں عموماً بڑی ہوشیاری سے علم حاصل کرنے کے بہانے سے بات کی جاتی