خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 280

280 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جماعتی عقائد پر اطلاع ہوئی۔شروع میں تو جہالت اور گزشتہ خیالات کی وجہ سے میں نے فوری منفی رد عمل ظاہر کیا۔لیکن جب قرآنی آیات و احادیث اور خدائی سنت کا بغور مطالعہ کیا تو میرا دل مطمئن ہونے لگا۔اب میرے سامنے دو راستے ہو گئے۔یاتو میں مسلسل حضرت عیسی بن مریم کے آسمان سے نزول کا انتظار کئے جاؤں اور اس سے قبل دجال کا انتظار ، جس کی بعض ایسی صفات بیان کی گئی ہیں جو صرف خدا تعالیٰ کو زیبا ہیں جیسے احیائے موتی وغیرہ۔اور پھر جن بھوتوں کے قصے اور قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ کے عقیدے سے چمٹار ہوں۔یا پھر حضرت احمد علیہ السلام کو صحیح موعود اور امام مہدی مان لوں جنہوں نے اسلام کو خرافات سے پاک فرمایا ہے اور اسلام کے حسین چہرے کو نکھار کر پیش فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع بھی فرمایا ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں نے خدا تعالیٰ سے مدد چاہی اور بہت دعا کی کہ میری رہنمائی فرمائے اور حق اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔اس کے بعد میں نے جماعت احمد یہ اور حضرت احمد علیہ السلام کی طرف ایک دلی میلان محسوس کیا۔میں نے قانون پڑھا ہوا ہے۔جب میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار سنے تو میرا جسم کانپنے لگا اور آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور میں نے زور سے کہا کہ ایسے شعر کوئی مفتری نہیں کہہ سکتا۔ایک مفتری کے سینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت کیسے ہو سکتی ہے ؟ پھر ایک بھی کا اتناقوی اور فصیح و بلیغ عربی زبان کا استعمال کرنا بغیر خدائی تائید کے ناممکن ہے۔اس طرح پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔شام سے ایک دوست مصطفیٰ حریری صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ میں ایک سادہ انسان ہوں، پڑھ لکھ نہیں سکتا اور نہ ہی میرے پاس کوئی وسائل ہیں۔گزشتہ چار ماہ میں میں نے بہت سی خوابیں دیکھی ہیں کہ میری روح قبض کی جارہی ہے۔آخری خواب میں میں نے دیکھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم طر طوس شہر میں تشریف لائے ہیں اور ہمارے گھر کے ہی ایک کمرے میں تشریف فرما ہیں جس کا اصل میں ایک ہی دروازہ ہے لیکن مجھے خواب میں اُس کے دو دروازے نظر آئے۔ایک مغرب کی طرف اور دوسرا قبلے کی طرف۔میرے والد صاحب اس دروازے پر کھڑے تھے۔انہوں نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرو۔میں نے سلام عرض کیا۔جب میں نے مصافحہ کیا تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے دل میں داخل ہوا اور اطمینانِ قلب نصیب ہوا۔میں نے نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں موجود ہیں۔احمدیت قبول کرنے کے بارہ میں میں نے استخارہ کے بعد جس میں میں نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگی تھی کہ اے خدا! میں ایک سادہ ان پڑھ انسان ہوں، مجھے حق دکھا تو خدا تعالیٰ نے میرے عمل مجھے دکھائے جو اچھے نہیں تھے کیونکہ میں نماز کا بھی پابند نہ تھا۔اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو اپنی والدہ کے ساتھ قبرستان میں دیکھا۔حضرت امام مہدی علیہ السلام میری روح قبض کرنے آئے ہیں اور انہوں نے میری گردن پر ٹھو کر ماری ہے جس سے میری گردن پر ایک مُہر کا نشان پڑ گیا ہے۔اُس کے بعد میں وہاں سے چل پڑا حتی کہ میں نے ایک نوجوان کو دیکھا اور میں نے اُسے تعجب سے کہا کہ میری گردن پر امام مہدی کی مہر لگی ہوئی ہے۔تو اُس نے کہا یہ نشان میری گردن پر بھی ہے اور یہ بیعت کی مہر ہے۔