خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 22
خطبات مسرور جلد نهم 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء یہ واقعہ تو میں نے بتایا کہ جس میں رئیس المنافقین کے ساتھ عفو اور بخشش کا سلوک ہے۔اب بعض دوسری مثالیں پیش کرتا ہوں۔مثلاً اُجڈ، غیر تربیت یافتہ بعض بدؤوں کے اخلاق ہیں جو ادب سے گری ہوئی حرکات کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی علی ظلم کے مقام کو نہیں پہنچانتے تھے۔اُن پر آپ کس طرح عفو فرماتے تھے۔اس بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے۔م الله سة حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی علی یم کی معیت میں تھا۔آپ نے ایک موٹے حاشیہ والی چادر زیب تن کی ہوئی تھی۔ایک بدوی نے آپ کی چادر کو اتنی زور سے کھینچا کہ اس کے حاشیہ کے نشان آپ کے کندھے پر پڑ گئے۔پھر اس نے کہا اے محمد ! صلی علی کرم مجھے اللہ تعالیٰ کے اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عنایت فرمایا ہے یہ دو اونٹ دے دیں۔آپ نے مجھے کوئی اپنایا اپنے والد کا مال تو نہیں دینا؟ اُس کی ایسی کرخت باتیں سن کر پہلے تو نبی صلی ال تم خاموش رہے پھر فرمایا: الْمَالُ مَالُ اللهِ وَ أَنَا عَبْدُه که مال تو اللہ ہی کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں۔پھر آنحضور صلی الم نے فرمایا کہ تم نے جو مجھے تکلیف پہنچائی ہے اس کا تم سے بدلہ لیا جائے گا۔اُس بدوی نے کہا مجھے سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔آنحضرت صلی علیم نے فرمایا۔تم سے بدلہ کیوں نہیں لیا جائے گا؟ اُس بدوی نے کہا۔اس لئے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ رسول اللہ صلی ال کلم ہنس پڑے، تبسم فرمایا( تو نرمی کا، عفو کا جو سلوک تھا، پتہ تھا۔اسی نے ان لوگوں میں جرآت پیدا کی تھی کہ جو دل چاہے کر دیں)۔پھر آنحضور صلی علیکم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے مطلوبہ دو اونٹوں میں سے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجوریں لاد دیں۔اور وہ اس کو عنایت فرمائیں۔(الشفاء لقاضي عياض الباب الثانى فى تكميل الله تعالى۔- الفصل و اما الحلم صفحه 74 جزء اول دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) کرتا ہوں۔پھر آپ نے مخالفین اسلام کے ساتھ کس طرح عفو فرمایا، کیا سلوک فرمایا ہو گا۔اس کی چند مثالیں پیش حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ قریش مکہ کے اتنی آدمی رسول اللہ صلی علی یم اور آپ کے صحابہ پر نماز فجر کے وقت اچانک جبل تنعیم سے حملہ آور ہوئے۔اُن کا ارادہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی علیم کو قتل کر دیں مگر ان کو پکڑ لیا گیا۔بعد میں رسول اللہ صلی علیم نے اُن کو معاف کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔(سنن الترمذى كتاب تفسير القرآن باب ومن سورة الفتح حديث نمبر (3264 اب اس قسم کی معافی کی کوئی مثال پیش کر سکتا ہے کہ جنگی مجرم ہیں لیکن سرا پا شفقت و عفو ان کو بھی معاف فرمارہے ہیں کہ جاؤ تمہارے سے کوئی سرزنش نہیں۔تمہیں کوئی سزا نہیں۔پھر ایک روایت ہے۔ہشام بن زید بن انس روایت کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ فرماتے