خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 264
264 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم کے اس سے کوئی بھٹک نہیں سکتا۔یعنی یہ بڑے واضح راستے ہیں۔اور تم میں سے جو شخص رہا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا۔(ساتھ انذار بھی کر دیا کہ باوجود ان واضح راستوں کے اختلافات پیدا ہو جائیں گے۔ایسے حالات میں تمہیں میری جانی پہچانی سنت پر چلنا چاہئے اور خلفاء راشدین مہدتین کی سنت پر چلنا چاہئے۔تم اطاعت کو اپنا شعار بناؤ خواہ حبشی غلام ہی تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے۔اس دین کو تم مضبوطی سے پکڑو۔مومن کی مثال تکمیل والے اونٹ کی سی ہے۔جدھر اُسے لے جاؤ وہ اُدھر چل پڑتا ہے اور اطاعت کا عادی ہوتا ہے۔(سنن ابن ماجه باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين حديث:43) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اطاعت ہے یہ تمہارے لئے ضروری ہے۔وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۔کہ اگر تم اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور ہدایت پاتے رہو گے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے خلافت سے متعلق احکام دیئے جو آیت استخلاف میں درج ہیں۔اللہ فرماتا ہے کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ - کہ اللہ تعالیٰ کا اُن لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ ہے جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ بجا لائے۔ایمان اور عمل صالح کا معیار جو ہے وہ پہلی آیت میں بیان فرما دیا کہ کامل اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھو، تبھی حقیقی مومن کہلاؤ گے۔کامل اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھ کر تبھی نیک اعمال بجالانے کی طرف بڑھنے والے ہو گے۔اور جب یہ معیار حاصل ہو جائے گا تو پھر خلافت کی نعمت سے فیض پاؤ گے ورنہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ضرور مسلمانوں میں خلافت جاری رہے گی بلکہ وعدہ فرمایا ہے جو بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے اور اُن میں سے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ کامل اطاعت ہو۔پہلی خلافتِ راشدہ کا تسلسل تبھی ٹوٹا تھا کہ مسلمان اطاعت سے باہر ہوئے۔مسلمان حقیقی خلافت سے اُس وقت محروم کئے گئے جب وہ اطاعت سے باہر ہوئے۔اطاعت سے باہر نکل کر بعض گروہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم اپنی بیعت کو بعض شرائط کے ساتھ مشروط کرتے ہیں جن میں ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت عثمان کی شہادت کا بدلہ لینا تھا یا بعض فتنہ پر دازوں کی باتوں میں آکر اطاعت سے باہر نکلنے والے بنے۔باوجو د اس کے کہ اُس وقت صحابہ بھی موجود تھے لیکن جب کامل اطاعت سے باہر نکلے تو خلافت سے محروم کر دیئے گئے۔اور کیونکہ خلیفہ بنانے کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے تو پھر اختلافات کے بعد ، اطاعت سے نکلنے کے بعد خلیفہ بننے یا بنانے کی ان کی سب کو ششیں ناکام ہو گئیں۔اور خلافت نے ملوکیت کی شکل اختیار کرلی۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ جس طرح نظام خلافت پہلے اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا تھا اس طرح جاری کرے گا، تو اللہ تعالیٰ نے پہلا نظام خلافت نبوت کی صورت میں جاری فرمایا تھا۔اور پہلی قوموں میں نبی خود خد اتعالیٰ بھیجتا تھا۔اب کیونکہ شریعت کامل ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تا قیامت شرعی نبی ہیں اس لئے خلافتِ راشدہ کا اجراء فرما دیا جس کا ظاہری طور پر چناؤ کا طریق تو بیشک لوگوں کے ہاتھ میں رکھا لیکن اپنی فعلی شہادت اور تائیدات سے اللہ تعالیٰ نے اس خلافت کو اپنی پسند کی طرف منسوب فرمایا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے کیونکہ آخری غلبہ اور کامل شریعت اسلام کے ذریعے سے ہی قائم فرمانی تھی اس لئے یہ پیشگوئی بھی فرما دی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم