خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 263
263 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حقیقت میں کوئی فائدہ نہیں۔کامل اطاعت دکھاؤ گے تو تبھی سمجھا جائے گا کہ یہ دعوے کہ ہم ہر طرح سے مر مٹنے کے لئے تیار ہیں حقیقی دعوے ہیں۔اگر اُن احکامات کی پابندی نہیں اور اُن احکامات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول نے دیئے ہیں تو بسا اوقات بڑے بڑے دعوے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔پس اصل چیز اس پہلو سے کامل اطاعت کا عملی اظہار ہے۔اگر یہ عملی اظہار نہیں اور بظاہر چھوٹے چھوٹے معاملات جو ہیں اُن میں بھی عملی اظہار نہیں تو پھر دعوے فضول ہیں۔اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ کہہ کر یہ واضح فرما دیا کہ انسانوں کو دھو کہ دیا جا سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے، ہر مخفی اور ظاہر عمل اُس کے سامنے ہے، اس لئے اُس کو دھو کہ نہیں دیا جاسکتا۔پس ہمیشہ یہ سامنے رہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔اور ایک حقیقی مومن کو اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اور جب ایک انسان کو اس بات پر یقین قائم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے تو پھر صرف قسمیں ہی نہیں رہتیں بلکہ دستور کے مطابق اطاعت کا اظہار ہوتا ہے۔ہر معروف فیصلے کی کامل اطاعت کے ساتھ تعمیل ہوتی ہے۔اللہ اور رسول کی اطاعت بجالانے کے لئے انسان حریص رہتا ہے۔اُس کے لئے کوشش کرتا ہے۔اَطِيْعُوا اللهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُولَ کے ساتھ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنكُم بھی یعنی امیر اور نظام جماعت کی اطاعت بھی ضروری ہو جاتی ہے۔خلیفہ وقت کی اطاعت بھی ضروری ہو جاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو یہ کامل اطاعت نہیں دکھاتے اور اپنی مرضی کرتے ہیں، فرماتا ہے کہ تمہارے ان احکامات پر عمل نہ کرنے اور پھر جانے کا گناہ جو ہے، یہ بار جو ہے یہ تم پر ہے اور تمہی اس کے بارے میں پوچھے جاؤ گے۔رسول سے اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔اللہ کے رسول پر اس کی ذمہ داری نہیں ہو گی۔جو احکام شریعت تھے وہ اللہ کے رسول نے پہنچا دیئے اور پھر رسول کی اتباع میں خلیفہ وقت نے اللہ اور رسول کے احکام پہنچا دیئے۔پس نصیحت کرنے والے، شریعت کے احکام دینے والوں نے تو اپنا کام کر دیا۔اُن پر عمل نہ کر کے عمل نہ کرنے والے جوابدہ ہیں۔یہاں جو میں رسول کے ساتھ خلیفہ کی بات بھی جوڑ رہا ہوں تو ایک تو میں نے بتایا ہے قرآنِ کریم میں اُولی الأمرِ مِنْكُم آتا ہے۔دوسرے خلافت راشدہ جو ہے وہ رسول کے کام کو ہی آگے بڑھانے کے لئے آتی ہے اور یہی نبوت کا تسلسل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نصیحت فرماتے ہوئے فرمایا کہ میری سنت پر چلنا اور پھر خلفاء راشدین کے طریق پر چلنا۔یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ خلفاء راشدین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور سنت اور شریعت کو لے کر ہی آگے بڑھنے والے ہیں۔یہ جو حدیث ہے یہ پوری اس طرح ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عمر و سلمی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا پُر اثر وعظ کیا کہ جس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہ پڑے، دل ڈر گئے۔ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول! یہ تو ایسی نصیحت ہے جیسے ایک الوداع کہنے والا وصیت کرتا ہے۔ہمیں کوئی ایسی ہدایت فرمائیے کہ ہم صراط مستقیم پر قائم رہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں تمہیں روشن اور چمکدار راستے پر چھوڑے جارہا ہوں۔اس کی رات بھی اُس کے دن کی طرح ہے۔سوائے بد بخت