خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 262

262 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ان کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں، ان میں سے ایک آیت جیسا کہ ہم جانتے ہیں اور ترجمہ بھی آپ نے سنا، آیت استخلاف کہلاتی ہے۔یعنی وہ آیت جس میں مومنین سے خدا تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی مختلف کتب میں اس آیت کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔اور تفصیل بیان فرماتے ہوئے مختلف طریق پر اس کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔لیکن اپنی ایک مختصر سی کتاب یا رسالہ ”الوصیت“ میں اس حوالے سے اپنے بعد جماعت احمدیہ میں نظام خلافت جاری ہونے کی خوشخبری عطا فرمائی۔یہ رسالہ آپ نے دسمبر 1905ء میں تصنیف فرمایا جس میں تقویٰ، توحید ، اپنے مقام خلافت اور قرب الہی کے حصول کے لئے جماعت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے ، مالی قربانی کے جاری رکھنے کے لئے وصیت کا عظیم الہی منصوبہ بھی پیش فرمایا جو در حقیقت حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا ایک ایسا نظام ہے جس کے سامنے تمام معاشی نظام بے حقیقت ہیں کیونکہ وہ تقویٰ سے عاری اور صرف چند لوگوں یا چند ظاہری پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔بہر حال اس کی تفصیلات اور جزئیات تو بہت سی ہیں لیکن میں آپ علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں ، جو آپ نے اس رسالہ میں بیان فرمائے تھے، کچھ اقتباسات آپ کے سامنے رکھوں گا۔وصیت کا نظام تو جیسا کہ میں نے کہا کہ 1905ء میں جب یہ کتاب لکھی گئی تھی، اُس وقت سے جاری ہو گیا تھا۔لیکن آیت استخلاف کے حوالے سے جو بات آپ علیہ السلام نے اس کتاب میں بیان فرمائی ہے یعنی خلافتِ احمدیہ۔وہ اس رسالے کے لکھے جانے کے تین سال بعد آج سے ایک سو تین سال پہلے آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد آج کے روز 27 مئی 1908ء کو جاری ہوئی۔اور یہ نظام خلافت وہ نظام ہے جو چودہ سو سال کی محرومی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔لیکن اس سے پہلے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ آپ کے سامنے رکھوں یا اقتباسات پیش کروں، ان آیات کی مختصر وضاحت پیش کروں گا تا کہ نظام خلافت سے متعلقہ قرآنی احکام بھی سامنے رہیں۔ان آیات میں اللہ اور رسول کو ماننے والوں کے لئے اور خلفاء کی بیعت کرنے والوں کے لئے بھی ایک مکمل لائحہ عمل سامنے رکھ دیا ہے۔اور پہلی بات اور بنیادی بات یہ بیان فرمائی کہ اطاعت کیا چیز ہے اور اس کا حقیقی معیار کیا ہے ؟ اطاعت کا معیار یہ نہیں ہے کہ صرف قسمیں کھا لو کہ جب موقع آئے گا تو ہم دشمن کے خلاف ہر طرح لڑنے کے لئے تیار ہیں۔صرف قسمیں کام نہیں آتیں۔جب تک ہر معاملے میں کامل اطاعت نہیں دکھاؤ گے