خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 258 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 258

258 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم کے وقت اس سے استعانت کر سکتا ہے تو ایسا شخص کسی ایسی تکلیف کے وقت جس کی گرہ کشائی اس حاکم کے ہاتھ میں ہے ، عام لوگوں کے مقابل کم درجہ رنجیدہ اور غمناک ہوتا ہے تو پھر وہ مومن جس کا اس قسم کا بلکہ اس سے بھی زیادہ مضبوط تعلق احکم الحاکمین سے ہو ، وہ کب مصائب و شدائد کے وقت گھبر اوے گا؟ انبیاء علیہم السلام پر جو مصیبتیں آتی ہیں اگر اُن کا عشر عشیر بھی ان کے غیر پر وارد ہو تو اس میں زندگی کی طاقت باقی نہ رہے۔یہ لوگ جب دنیا میں بغرض اصلاح آتے ہیں تو اُن کی گل دنیا دشمن ہو جاتی ہے۔لاکھوں آدمی اُن کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں لیکن یہ خطرناک دشمن بھی اُن کے اطمینان میں خلل انداز نہیں ہو سکتے۔اگر ایک شخص کا ایک دشمن بھی ہو تو وہ کسی لمحہ بھی اُس کے شر سے امن میں نہیں رہتا۔چہ جائیکہ ملک کا ملک اُن کا دشمن ہو اور پھر یہ لوگ با امن زندگی بسر کریں۔ان تمام تلخ کامیوں کو ٹھنڈے دل سے برداشت کر لیں۔یہ برداشت ہی معجزہ و کرامت ہے۔رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت اُن کے لاکھوں معجزوں سے بڑھ کر ایک معجزہ ہے۔گل قوم کا ایک طرف ہونا، دولت، سلطنت، دنیوی وجاہت، حسینہ جمیلہ بیویاں وغیرہ سب کچھ کے لالچ قوم کا اس شرط پر دینا کہ وہ اعلائے کلمتہ اللہ ، لَا اِلهَ اِلَّا اللہ سے رُک جاویں۔لیکن ان سب کے مقابل جناب رسالت مآب کا قبول کرنا اور فرمانا کہ میں اگر اپنے نفس سے کر تا تو یہ سب باتیں قبول کرتا۔میں تو حکم خدا کے ماتحت یہ سب کچھ کر رہا ہوں اور پھر دوسری طرف سب تکالیف کی برداشت کرنا، یہ ایک فوق الطاقت معجزہ ہے۔یہ سب طاقت اور بر داشت اُس دعا کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جو مومن کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ان لوگوں کی دردناک دعا بعض وقت قاتلوں کے سفاکانہ حملہ کو توڑ دیتی ہے۔حضرت عمر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے جانا آپ لوگوں نے سنا ہو گا۔ابو جہل نے ایک قسم کا اشتہار قوم میں دے رکھا تھا کہ جو جناب رسالت مآب کو قتل کرے گا وہ بہت کچھ انعام و اکرام کا مستحق ہو گا۔حضرت عمر نے مشرف بہ اسلام ہونے سے پہلے ابو جہل سے معاہدہ کیا اور قتل حضرت کے لئے آمادہ ہو گیا۔اُس کو کسی عمدہ وقت کی تلاش تھی، دریافت پر اُسے معلوم ہوا کہ حضرت“ (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) نصف شب کے وقت خانہ کعبہ میں بغرض نماز آتے ہیں۔یہ وقت عمدہ سمجھ کر حضرت عمرؓ سر شام خانہ کعبہ میں جا چھپے۔آدھی رات کے وقت جنگل میں سے لا اِلهَ اِلَّا اللہ کی آواز آنا شروع ہوئی۔حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گریں تو اُس وقت قتل کروں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درد کے ساتھ مناجات شروع کی اور سجدہ میں اس طرح حمد الہی کا ذکر کیا کہ حضرت عمر کا دل پسیج گیا۔اُس کی ساری جرآت جاتی رہی اور اُس کا قاتلانہ ہاتھ سُست ہو گیا۔نماز ختم کر کے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر کو چلے تو اُن کے پیچھے حضرت عمرؓ ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آہٹ پاکر دریافت کیا اور معلوم ہونے پر فرمایا کہ اے عمر! کیا تو میر اپیچھا نہ چھوڑے گا؟ حضرت عمر بد دعا کے ڈر سے بول اُٹھے کہ حضرت! میں نے آپ کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا۔میرے حق میں بد دعانہ کیجئے گا۔چنانچہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ وہ پہلی رات تھی جب مجھ میں اسلام کی محبت پید ا ہوئی“۔(ملفوظات جلد نمبر 7 صفحہ 61-59۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء) ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 45 تا 47)