خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 251

251 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سامنے آجاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر ، سردی میں وضو کر کے ، خواب راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشوں کو چھوڑ کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے۔وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اُس کو اطلاع نہیں ہے۔پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو“۔( ملفوظات جلد نمبر 9صفحہ 7۔مطبوعہ لندن۔ایڈیشن 1984ء) (ملفوظات جلد سوم صفحہ 28 مطبوعہ ربوہ) پھر 1906ء کی ایک مجلس میں آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ : ” دعا کے معاملہ میں حضرت عیسی علیہ السلام نے خوب مثال بیان کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک قاضی تھا جو کسی کا انصاف نہ کر تا تھا اور رات دن اپنی عیش میں مصروف رہتا تھا۔ایک عورت جس کا ایک مقدمہ تھا وہ ہر وقت اُس کے دروازے پر آتی اور اُس سے انصاف چاہتی۔وہ برابر ایسا کرتی رہتی یہاں تک کہ قاضی تنگ آگیا اور اُس نے بالآخر اس کا مقدمہ فیصلہ کیا اور اُس کا انصاف اُسے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دیکھو کیا تمہارا خدا قاضی جیسا بھی نہیں کہ وہ تمہاری دعا سنے اور تمہیں تمہاری مراد عطا کرے۔ثابت قدمی کے ساتھ دعا میں مصروف رہنا چاہئے۔قبولیت کا وقت بھی ضرور آہی جائے گا۔استقامت شرط ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 9 صفحہ 41۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 45) پھر ایک جگہ آپ نے ایک مجلس میں فرمایا کہ دیکھو : ”نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا تعالیٰ نے لعنت اور ویل بھیجا ہے چہ جائیکہ اُن کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔وَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ ( الماعون: 5 ) خود خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔یہ اُن نمازیوں کے حق میں ہے جو نماز کی حقیقت سے اور اُس کے مطالب سے بے خبر ہیں۔صحابہ (رضوان اللہ علیہم تو خود عربی زبان رکھتے تھے اور اُس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معانی سمجھیں اور اپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں۔مگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرا نبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کر دیا ہے“۔( یعنی بجائے اس کے کہ نماز کو سمجھیں، صرف رسمی چیزیں رہ گئی ہیں اور نماز کو اب اس طرح بنالیا ہے جیسا کہ حکم ہی نئے آگئے ہیں اور کسی نئے نبی نے حکم دے دیئے ہیں)۔فرمایا: ” دیکھو ! خدا تعالیٰ کا اس میں فائدہ نہیں، بلکہ خود انسان ہی کا اس میں بھلا ہے کہ اُس کو خد اتعالیٰ کی حضوری کا موقعہ دیا جاتا ہے اور عرض معروض کرنے کی عزت عطا کی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے۔میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیونکر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گزر جاتا ہے اور رات بھی گزر جاتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ اُن کا کوئی خدا بھی ہے۔یاد رکھو کہ ایسا انسان آج بھی ہلاک ہوا اور کل بھی “۔فرمایا: ”میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں کاش لوگوں کے دل میں پڑ جاوے۔دیکھو عمر گزری جارہی ہے۔غفلت کو چھوڑ دو اور تضرع اختیار کرو۔اکیلے ہو ہو کر خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پر وہ راضی اور خوش ہو جائے“۔( ملفوظات جلد نمبر 10 صفحہ 413،412 مطبوعہ لندن ، ایڈیشن 1984 ء ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 661 مطبوعہ ربوہ)