خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 250

خطبات مسرور جلد نهم 250 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء پھر 1906ء کی ایک تقریر میں آپ فرماتے ہیں کہ : نماز کیا ہے ؟ یہ ایک دعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو۔اسی لئے اس کا نام صلوۃ ہے۔کیونکہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بد ارادوں اور بُرے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کر دے“۔فرمایا ” صلوۃ کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ نیرے الفاظ اور دعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش، رفت اور در دساتھ ہو۔خدا تعالیٰ کسی دعا کو نہیں سنتا جب تک دعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔دعامانگنا ایک مشکل امر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں امر کے لئے دعا کی تھی مگر اس کا اثر نہ ہوا اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بد ظنی کرتے ہیں اور مایوس ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ جب تک دعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔دعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پکھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دعا میں لگا رہے۔پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دعا قبول ہو گی“۔فرمایا ” نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنی ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام، رکوع، سجود کر لیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لئے ، خواہ اُسے سمجھیں یانہ سمجھیں“۔فرمایا کہ ”۔۔۔یاد رکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے“ (یعنی نماز جیسی نعمت کے ہوتے ہوئے) کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور اُن راستبازوں کا جو پہلے ہو گزرے ہیں ان سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں۔جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے۔پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے۔جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اُس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے۔افسوس اُن نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔۔۔۔جب تک کہ انسان اُس عالم میں سے حصہ نہ لے جس سے نماز اپنی حد تک پہنچتی ہے تب تک انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔مگر جس شخص کا یقین خدا پر نہیں وہ نماز پر کس طرح یقین کر سکتا ہے“۔( ملفوظات جلد 9صفحہ 109-111 مطبوعہ لندن، ایڈ یشن 1984ء) (ملفوظات جلد 5 صفحه 93-94 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ نے فرمایا ”پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعامانگنی چاہیئے کہ جس طرح اور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے۔کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے۔اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت اس کے بالمقابل مجسم ہو کر