خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 249
خطبات مسرور جلد نهم 249 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء آج میں نے ایسی ہی مجالس میں سے نماز، دعا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ضمن میں آپ نے جو نصائح فرمائیں اُن میں سے چندار شادات کو ، چند نصائح کو لیا ہے۔1907ء کے جلسے کی اپنی ایک تقریر میں جو ایک لمبی تقریر ہے ، ایک جگہ دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ” یاد رکھو کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی ابتداء بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پر ہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا۔اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مُردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے۔اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے۔اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے۔غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حاصل نہیں ہو تا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہار رہتا ہے“۔(ملفوظات جلد نمبر 10 صفحہ 62۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 399-400 مطبوعہ ربوہ) یہ جو دنیا کی محبت کا پھندا پڑا ہوا ہے یہ گلے میں پڑا رہتا ہے۔وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہوتا ہے۔اگر فضل حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے بھی دعا مانگو۔پھر نماز میں وساوس کو دور کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ : ”یہ کیا دعا ہے کہ مُنہ سے تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کہتے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے۔فلاں چیز رہ گئی ہے۔یہ کام یوں چاہئے تھا۔اگر اس طرح ہو جائے تو پھر یوں کریں گے۔یہ تو صرف عمر کا ضائع کرنا ہے۔جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عمل درآمد نہیں کر تاتب تک اُس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرنا ہے“۔(ملفوظات جلد 5 صفحہ 400 مطبوعہ ربوہ) اس کے لئے پھر وہی آپ نے بتایا کہ دعا کرو۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک بزرگ تھے وہ کسی مسجد میں گئے۔وہاں کا جو امام الصلوۃ تھا وہ نماز پڑھاتے ہوئے اپنے کاروبار کے متعلق سوچ رہا تھا کہ میں یہ مال امر تسر سے خرید لوں گا، پھر دہلی لے کر جاؤں گا۔وہاں سے اتنا منافع کماؤں گا۔پھر اس کو کلکتہ لے جاؤں گا وہاں سے اتنا منافع ہو گا۔پھر آگے چلوں گا۔تو وہ بزرگ جو پیچھے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز توڑ دی اور علیحدہ ہو کر نماز پڑھنے لگے۔کشفی طور پر اُن کو اللہ تعالیٰ نے اُس امام کے دل کی حالت بتادی۔بعد میں مقتدیوں نے شکایت کی مولوی صاحب ! اس نے آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، توڑ دی تھی۔بڑے غصہ میں انہوں نے پوچھا کہ بتاؤ کیا وجہ ہے؟ تم نے کیوں نماز توڑی؟ تمہیں پتہ ہے یہ کتنا گناہ ہے۔اُس نے کہا مولوی صاحب! میں کمزور بوڑھا آدمی ہوں۔آپ نے سفر شروع کیا امر تسر سے اور کلکتہ پہنچ گئے ، ابھی آپ نے بخارا تک جانا تھا۔میں اتنی دور آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا۔تو بعض دفعہ نماز پڑھانے والوں کا بھی یہ حال ہوتا ہے۔