خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 215
215 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم عزرائیل نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بسم اللہ اور سورۃ فاتحہ پڑھی۔اس کے بعد مجھے بیہوشی کی سی کیفیت محسوس ہوئی ( یہ خواب میں ہو رہا تھا) اور پھر کہتے ہیں پھر میری آنکھ کھل گئی۔غالباً اس سے مراد یہ تھی کہ جماعت احمد یہ سے تعارف کے بعد ایک پاک زندگی کی طرف میرا اسفر شروع ہو گیا۔خواب میں مسیح الدجال کو دیکھا جو بیساکھیوں کے سہارے چل رہا تھا۔میں نے بڑھ کر اس کی گردن توڑ دی۔اس کی تعبیر میرے ذہن میں آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد مجھے اور میرے ایمان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔کہتے ہیں کچھ مدت کے بعد پھر خواب میں حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کو پیٹھ پھیر کر جاتے دیکھا اور اُس کی تعبیر یہ سمجھ آئی کہ اب مسیحی عقیدے کے ختم ہونے کا وقت آگیا ہے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں اور ہم آپ کا نورانی چہرہ دیکھ رہے ہیں۔آپ کا رنگ مرجان کے موتیوں کی طرح ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور حضور سے ملتے ہی آپ کے ہاتھ چوم کر میں رونے لگ گیا۔آپ نے کمال شفقت سے فرمایا۔” آؤ نماز پڑھیں تب ہم نے نماز پڑھی۔اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔نائیجیریا سے ہمارے مبلغ ندیم صاحب لکھتے ہیں کہ بینوے سٹیٹ (Benue State) کے ایک امام خالد شعیب صاحب سے ہمارے ایک معلم کا رابطہ قائم ہوا۔اُن کو جماعت کا لٹریچر پڑھنے کے لئے دیا گیا۔اُن کی دلچسپی بڑھی اور یہ جماعت کے ہیڈ کوارٹر ابو جا آئے اور مبلغ سلسلہ سے کافی سوال و جواب ہوئے۔اور مزید عربی لٹریچر حاصل کیا۔کچھ دنوں کے بعد امام صاحب نے بتایا کہ اب مجھے مکمل تسلی ہے اور میں نے ایک خواب بھی دیکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نائیجیریا میں ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب فرما رہے ہیں۔اور میں ہاؤ سا زبان میں اس خطاب کا ترجمہ کر رہا ہوں۔خطاب کے اختتام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے دو قلم اور ایک کتاب عطا فرمائی۔اس لئے اب میری تسلی ہے اور میں دل سے احمدی ہو چکا ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنی طرف سے ہی ہاؤ سازبان میں ایک خط تیار کیا جس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جماعت کی کتابیں پڑھی ہیں جس میں الْمَسِيحُ النَّاصرى فى الهند“ اور الْقَوْلُ الشَّرِيحَ فِي ظهور المهدی والمسیح “ شامل ہیں۔اور میں اس بات پر ایمان لا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ہی وہ مسیح ہیں جن کا ہم انتظار کر رہے تھے۔لہذا میں نے جماعت کو قبول کر لیا ہے۔نیز خط میں لکھا ہے کہ باقی ائمہ کرام کو بھی اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ اس جماعت کو قبول کر لیں۔اور امام صاحب نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے اپنی طرف سے القولُ الصريح في ظهور المهدى والمسيح “ کا ہاؤ سا زبان میں ترجمہ شروع کر دیا تھا لیکن چند روز قبل کہتے ہیں میں نے خواب دیکھی کہ ایک سفید آدمی جو سفید لباس میں ملبوس ہیں میرے پاس آئے اور کہا کہ پہلے الْمَسِيحُ النَّاصري في الهند“ کا ترجمہ کریں۔یہ میری کتاب ہے اور اس ترجمے کو کو گی سٹیٹ Kogi) (State میں اپنے لوگوں تک پہنچائیں۔لہذا میں نے اس کتاب کا ترجمہ شروع کر دیا ہے جو اب مکمل ہونے والی ہے۔کہتے ہیں میرے کئی شاگرد ہیں اُن تک بھی میں انشاء اللہ احمدیت کا پیغام پہنچاؤں گا۔