خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 213

213 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم خواہش کرتی ہوں کہ اُن کے ساتھ مل جاؤں۔چنانچہ میں نے اُن کی طرف چڑھنا شروع کیا۔اوپر کی طرف راستہ بہت خوبصورت اور ہر طرف سے سبز و شاداب اور دیدہ زیب رنگ برنگے پھولوں سے سجا ہوا تھا۔جب میں اوپر چڑھتے چڑھتے تھک جاتی تو مختلف پھولوں سے سجائے ہوئے بہت دلکش گھڑوں سے پانی پیتی جو بہت شیریں اور اس قدر مزے دار تھا کہ اس جیسا میں نے پہلے کبھی نہیں پیا۔کہتی ہیں اس کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ جو کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے وہی حقیقی رنگ میں اسلام کی دلکش اور خوبصورت تعلیم ہے۔لہذا میں نے اپنے میاں سے کہا کہ میری بیعت بھی ارسال کر دیں۔پھر الجزائر کی ایک فتیحہ صاحبہ ہیں۔وہ کہتی ہیں میں نے ایم۔ٹی۔اے کے بہت سے پروگرام دیکھنے کے بعد خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ میں ایک بہت بڑی جماعت میں شامل ہوں جس کی رہنمائی ( میر ا لکھا کہ) خلیفہ المسیح الخامس اپنے روایتی لباس میں کر رہے ہیں۔اور ایک مسجد کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں جس کے دروازے کھلے ہیں اور اس مسجد کے اندر نور چمک رہا ہے۔اس خواب کے بعد 9 فروری 2010ء کو کہتی ہیں میں نے بیعت ارسال کر دی اور بڑی شدت سے جواب کا انتظار کرنے لگی۔اُسی رات میں نے دیکھا کہ میں ایک فریم کئے ہوئے آئینے میں دیکھ رہی ہوں۔اچانک مجھے اپنی شکل فریم میں نظر آنے لگی اور وہ شکل بہت چمکدار، روشن تھی۔میں نے زندگی بھر اپنی شکل اتنی خوبصورت نہیں دیکھی۔پھر اچانک وہ تصویر غائب ہو گئی اور آئینہ میں میری بچپن کی تصویر اسی طرح روشن اور نہایت خوبصورت شکل میں ظاہر ہوئی۔میں اُسے دیکھ کر خواب میں بہت زیادہ خوش تھی اور اچانک میں نے اپنے بائیں طرف دیکھا تو میرا ایک اسسٹنٹ نظر آیا جس نے کہا کہ دیکھو، احمدیت کے آثار کس طرح میرے اندر منعکس ہو رہے ہیں۔محمد يحي سيهوب الجزائر کے ہیں۔کہتے ہیں میں نے چند ماہ قبل بیعت کی توفیق پائی۔اس کا سہر امیرے بیٹے سلیم کے سر ہے جسے مختلف چینل دیکھنے کا شوق ہے۔اور اسی تلاش میں اُسے ایم۔ٹی۔اے مل گیا جہاں پروگرام حوار مباشر جاری تھا۔چنانچہ اس نے کئی پروگرام دیکھے اور پروگرام کے درمیان فون بھی کئے اور عربی ویب سائٹ پر موجود مواد کا مطالعہ بھی کیا۔جب کوئی بات خلاف شریعت نظر نہ آئی اور واضح دلائل سنے تو بیعت کر لی۔لیکن میں نے بیعت سے قبل استخارہ کیا اور خدا تعالیٰ سے التجا کی کہ مجھے اس شخص یعنی سید نا احمد علیہ السلام کی حقیقت بتا دے۔تو میں نے خواب میں کچھ لوگوں کو اُن کے گھروں میں دیکھا کہ وہ شدید آندھی کا سامنا کر رہے ہیں۔وہ اپنے گھر کے باہر والے اُس پر دہ کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جو باہر سے اُن کے بر آمدے کو ڈھانکتا ہے لیکن وہ اُسے پکڑ نہیں سکتے اور پر وہ اوپر ہوا میں اُٹھ جاتا ہے اور وہ بے پردہ ہو جاتے ہیں اور گھر کے اندر سے چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ جیسے حقیقت میں ایک بڑا زلزلہ برپا ہو گیا ہے۔اس پر میں نے بے ساختہ ڈر کر نہایت مرعوب آواز میں کلمہ شہادت پڑھا اور دل کی گہرائیوں سے تین بار دہرایا۔اس کے بعد سکون ہو گیا اور کہتے ہیں میں نے مؤذن کی آواز سنی اور یہ سب کچھ فجر سے پہلے ہوا۔جب میں بیدار ہوا تو میری آنکھیں خدا تعالیٰ