خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 212

212 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رات خواب میں دیکھا کہ وہ بائیسکل پر شہر جانا چاہتے ہیں۔(اب افریقنوں کو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آتی اور ہم زیادہ ترقی پسند ، ترقی پذیر اور علم دوست ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب رہنمائی فرمانی ہو ، جس کو ہدایت دینی ہو، اُس کے لئے چھوٹی سی چیز میں ہی ایک رہنمائی فرما دیتا ہے جو سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں۔اور یہ دیکھیں کہتے ہیں کہ خواب میں دیکھا کہ) بائیسکل پر شہر جانا چاہتے ہیں اور ان کے پاس بھاری سامان ہے۔فکر مند ہیں کہ کس طرح بھاری سامان لے کر شہر پہنچیں؟ اتنے میں ایک لڑکے نے آکے پیغام دیا کہ تمہارا بھائی صالح ( جو ہمارے معلّم ہیں) تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم میرے ساتھ گاڑی پر آجاؤ۔میں نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو میرا بھائی صالح جو احمدی ہے ایک خوبصورت پگڑی پہنے ہوئے ہے اور کہہ رہا ہے کہ آؤکار پر چلیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوراً سمجھ لیا کہ میری مشکلات سے نجات احمدیت میں ہی ہے۔اور حقیقی عزت اسی میں ہے۔اس خواب بیان کرنے کے بعد وہ آئے کہ میری بیعت لے لیں۔شام سے ہمارے ایک دوست ہیں یا سر برہان الحریری صاحب۔وہ کہتے ہیں میں نے اپنے کزن رتیب الحریری صاحب سے جماعت کا ذکر سنا تو سنتے ہی میرے دل میں حق راسخ ہو گیا اور میں بیعت کرنے پر بھی رضامند ہو گیا۔دو روز قبل میں نے دور کعت نماز پڑھی اور دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے حق کے بارے میں کھول کر بتادے اور پھر اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما۔کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں ایک ان پڑھ انسان ہوں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچے چلا جارہا ہے۔میں کافی دور تک اُس کے ساتھ چلتا رہا۔پھر پوچھا کہ تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو ؟ اُس نے کہا کچھ دیر بعد تم خود ہی دیکھ لو گے۔چنانچہ میں نے آگ کے بلند شعلے اور بہت کثرت سے لوگ دیکھے۔یہ دیکھ کر میں نے خوفزدہ ہوتے ہوئے اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔اُسی وقت آسمان سے نور نازل ہوا اور جب میں نے اُسے دیکھا تو اُس شخص کو کہا کہ اب میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گا۔کیونکہ اس نور کو دیکھ کر مجھے راحت و اطمینان اور سکینت مل گئی ہے۔اس رؤیا کے بعد مجھے انشراح صدر ہو گیا۔الحمد اللہ اس کے بعد بیعت کر لی۔مکرمہ رنا محمد البواعنہ صاحبہ اُردن کی ہیں۔یہ کہتی ہیں کہ میر ا جماعت سے تعارف اپنے خاوند کے ذریعے ہوا۔انہوں نے تین سال ایم۔ٹی۔اے دیکھنے کے بعد چند ماہ قبل بیعت کر لی تھی۔میں نے بیعت کے بعد اپنے میاں میں خدا تعالیٰ سے تعلق میں نمایاں تبدیلی دیکھی۔اُن کی دعا کا انداز اور نمازوں کی پابندی اور خشوع و خضوع نمایاں طور پر بدل گیا۔وہ مجھ سے بھی جماعتی عقائد کی بات گاہے بگاہے کرتے اور مجھے امام الزمان کی کتابوں کے مطالعہ کی طرف توجہ دلاتے رہے۔خصوصاً اسلامی اصول کی فلاسفی “ پڑھنے کے لئے دی جو مجھے بہت پسند آئی اور اس کے بعد میں نے عربی کتاب ”التبلیغ “ کا مطالعہ کیا اور وہ بھی بہت عمدہ تھی۔اس پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور انشراح صدر کے لئے دعا کی۔چنانچہ مجھے بہت سی خوا ہیں آئیں جن میں سے ایک یہ تھی۔کہتی ہیں میں نے دیکھا کہ میرے میاں مختلف رنگوں کے گلاب کے پھولوں سے سجے ہوئے ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہیں اور آپ کے ساتھ بہت زیادہ لوگ موجود ہیں جو بہت خوش ہیں۔جبکہ میں نیچے پستی میں کھڑی ہوں اور اُن کی طرف دیکھ رہی ہوں اور