خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 211
211 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم گیا کہ وہ چالیس دن روزے رکھیں۔ان روزوں میں اُنیسویں اور اکیسویں رات انہیں کشف دکھایا گیا جس میں ایک سفید لباس میں ملبوس شخص یہ کلمات دہرارہا تھا کہ آشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ - احمدیت سچی ہے ، تمہیں یقینا لیلتہ القدر حاصل ہو گئی ہے اور حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام ہی امام مہدی ہیں۔کہتے ہیں یہ کشف مجھے کئی مرتبہ ہوا۔بالآخر 2008ء میں انہوں نے اپنی اہلیہ سمیت احمدیت قبول کر لی اور اس کے بعد کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام مشکلات کو انہوں نے بڑے صبر اور حو صلے سے بر داشت کیا۔کینیڈا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ سینٹ تھا مس (اونٹاریو) کے رہائشی ایک مقامی لوکل شخص بل رو بنسن (Bill Robinson) تھے جو بڑے پر جوش عیسائی تھے۔لیکن رفتہ رفتہ عیسائیت سے بیزار ہو گئے اور خدا سے دعا کرنے لگے کہ اے خدا! صحیح راستہ مجھے دکھا۔کہتے ہیں ایک شب نہایت شدت سے میں نے دعا کی کہ اگر خدا موجود ہے تو مجھے صحیح راستہ دکھا۔صبح کو اُس نے دیکھا کہ اس کے میل باکس میں جماعت احمدیہ کا پمفلٹ پڑا ہوا ہے۔بل نے اُسے خدائی نشان سمجھتے ہوئے جماعت سے رابطہ کیا اور مارچ 2011ء میں بیعت کر لی۔اُن کا کہنا تھا که مسلمان ہونے کے بعد جب وہ نہائے تو محسوس کیا کہ اُن کے سارے گناہ ڈھل کر بہہ گئے ہیں اور وہ نئے انسان بن گئے ہیں۔تو جو نیک فطرت ہیں اُن کو معجزوں کی کثرت کی ضرورت نہیں رہتی۔انہوں نے صرف اپنے پوسٹ باکس میں ایک پمفلٹ دیکھ کے اس کو بھی خدائی تائید سمجھتے ہوئے احمدیت کا مطالعہ کیا اور پھر احمدیت قبول کر لی۔پھر قزاقستان سے وہاں کے ہمارے مقامی معلم روفات تو کاموف صاحب لکھتے ہیں کہ گل سیزم آئمہ کینا صاحبہ نے 2010ء میں بیعت کی۔اس سے قبل وہ صوفی ازم سے منسلک رہیں۔اُن کا پہلا سوال حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں تھا۔وہ عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کے بارے میں ہم سے سُن کر بہت حیران ہوئیں۔اُس نے بتایا کہ جماعت میں داخل ہونے سے تقریباً تین چار ماہ پہلے اُس نے خواب دیکھا کہ گویا کسی نے بورڈ پر عربی زبان میں کچھ لکھا ہے جسے وہ نہ پڑھ سکیں۔تاہم اُس کا مفہوم اُسے یہ بتایا گیا کہ امام مہدی آپ کے در میان موجود ہے۔اس کے تقریباً دو ہفتے بعد اُس نے وہاں ایم۔ٹی۔اے پر جلسہ سالانہ جرمنی میں مجھے خطاب کرتے ہوئے دیکھا تو اُس پر بڑا گہرا اثر ہوا۔وہ کہتی ہیں مجھے پہلے ہی دکھایا گیا تھا کہ امام مہدی آچکے ہیں اور امام مہدی کی باتیں ہو رہی ہیں۔اُس کے بعد اُس نے احمدیت قبول کر لی۔سیر الیون کے ہمارے مشنری انچارج لکھتے ہیں کہ کینیما ڈسٹرکٹ کے بنڈ وما(Gbandoma) گاؤں میں ڈاکٹر تامو صاحب مشنری صالح لہائے صاحب اور معلم مصطفی فوفانا، تینوں داعیان الی اللہ تبلیغ کے لئے گئے۔تبلیغ کرنے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے الحاجی مصطفی تامو کو استخارہ کرنے کا طریق بتایا کہ اس طرح آپ احمدیت کی صداقت معلوم کر سکتے ہیں۔اگلی صبح الحاجی مصطفی تا مو صاحب جو ابھی احمدی نہ تھے۔انہوں نے مسجد میں نماز فجر کے بعد خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر حق کھول دیا ہے۔