خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 202

202 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم حالت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ ہمیں دلی صدمہ پہنچتا ہے۔پس ہمیں اپنی حالتوں کی طرف دیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اگر ہم دیکھیں کہ ہم کس کی اولادیں ہیں۔ہمارے بزرگوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر کیا پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔اس بات پر اگر ہم غور کریں اور یہ عہد کریں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کے نام کو بٹہ نہیں لگنے دیا تو یہ خود اصلاحی کا جو طریق ہے یہ زیادہ احسن رنگ میں ہمارے تقویٰ کے معیار بلند کرے گا۔ہمیں نیکیوں کے بجالانے کی طرف راغب کرے گا۔اور زندہ قوموں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ اُن کے پرانے بھی اپنی قدروں کو مرنے نہیں دیتے اور خوب سے خوب تر کی تلاش کرتے ہیں، اپنے معیار بلند کرتے چلے جاتے ہیں۔اور نئے آنے والے بھی ایک نئی روح کے ساتھ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔اور جب وہ پرانوں کے اعلیٰ معیار دیکھتے ہیں تو مزید مسابقت کی روح پید اہوتی ہے اور یوں نیکیوں کے معیار قومی سطح پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پس جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اپنی حالتوں کو بھی بدلنا ہے اور دنیا میں بھی ایک انقلاب پیدا کرنا ہے تو اس کے لئے مستقل جائزے لینے ہوں گے۔صرف اپنے جائزے نہیں لینے ہوں گے۔اپنے بیوی بچوں کے بھی جائزے لینے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ بیوی اپنے خاوند کی حالت اور اس کے قول و فعل کی سب سے زیادہ رازدار ہوتی ہے۔اگر مرد صحیح ہو گا تو عورت بھی صحیح ہوگی، ورنہ اُسے آئینہ دکھائے گی کہ میری کیا اصلاح کرنے کی کوشش کر رہے ہو پہلے اپنی حالت کو تو بدلو۔پس عورتوں کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ مردوں کی اپنی حالتوں میں بھی پاک تبدیلیاں پیدا ہوں۔ہمیشہ ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو اگلی نسلوں کی اصلاح کی بھی ضمانت مل جاتی ہے۔پس اگلی نسلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے، انہیں دین پر قائم رکھنے کے لئے مر دوں کو اپنی حالت کی طرف سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پھر یہ عورت اور مرد کے جو نمونے ہیں، ماں باپ کے جو نمونے ہیں، خاوند بیوی کے جو نمونے ہیں یہ بچوں کو بھی اس طرف متوجہ رکھیں گے کہ ہمارا اصل مقصد دنیا میں ڈوبنا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔یہاں ایک بات کی وضاحت بھی کر دوں کہ کسی کو یہ خیال نہ آئے کہ نعوذ باللہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں بہت کمزوریاں تھیں اس وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ کہنا پڑا یا ان کی کچھ تعداد بھی تھی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے چند ایک ہی شاید ایسے ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معیار پر پورا نہ اترتے ہوں لیکن آپ چند ایک میں بھی کمزوری نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔اُسی مجلس میں جہاں آپ نے بعض لوگوں کو دیکھ کے اپنے صدمے کا ذکر فرمایا ہے آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔بعض اوقات جماعت کا اخلاص، محبت اور جوش ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت ہوتی ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 605۔جدید ایڈیشن)