خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 166
166 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اس فساد سے بچانا ہے۔دعائیں کریں۔اگر دل سے نکلی ہوئی دعائیں ہوں گی تو ایک وقت میں جب اللہ تعالیٰ چاہے گا قبولیت کا درجہ پائیں گی اور ان ظالموں سے اگر ظالم حکمران ہیں تو نجات ملے گی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔آگے بھی جو تبدیلیوں کے بعد حالات نظر آرہے ہیں وہ شاید عارضی امن کے تو ہوں لیکن مستقل امن کے نہیں ہیں۔اس طرح جو تبدیلیاں ہوتی ہیں، جو ظلم کر کے اقتداروں پر قبضہ کیا جاتا ہے یا انقلاب لائے جاتے ہیں تو اُن میں بھی ایک مدت کے بعد پھر ظالم حکمران پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ایک ظالم کے جانے کے بعد دوسرے ظالم آجاتے ہیں۔اس لئے یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالٰی ہم پر کوئی ظالم حکمران کبھی مسلط نہ کرے۔اللہ کرے کہ عامتہ المسلمین بھی اور حکمران بھی اپنے اپنے فرائض اور حقوق کو پہچانیں اور پھر اُن کو ادا کرنے کی کوشش کریں اور اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کریں۔اس وقت جمعہ کی نماز کے بعد میں (چند) جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ امۃ الودود صاحبہ اہلیہ مکرم سید عبدالحئی شاہ صاحب ناظر اشاعت انجمن احمد یہ ربوہ کا ہے۔دو دن پہلے اچانک بلڈ پریشر ہائی ہوا اور ہسپتال میں داخل تھیں کہ برین ہیمبرج ہو گیا اور وہیں 25 مارچ کو اُن کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اُن کی عمر 72 سال تھی۔محترم شیخ محبوب الہی صاحب ساکن سری نگر کی بیٹی تھیں جو ایک برہمن تھے اور ہندو مذہب ترک کر کے خود احمدی ہوئے تھے۔اُن کا پہلا نام رادھا کرشن تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے شیخ صاحب کو قادیان بلا کر دینی تعلیم دلوائی، اور پھر انہوں نے خدمت دین کی۔مرحومہ کی والدہ محترمہ خواجہ عبد العزیز ڈار صاحب ابن حضرت حاجی عمر ڈار صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔اچھے آسودہ حال گھرانے سے تھیں لیکن واقف زندگی سے شادی ہوئی ہے تو اپنے وقف کو خوب نبھایا ہے اور ہر حالت میں خوشی سے گزارہ کیا ہے۔ملنسار اور غریب پرور تھیں۔ایک چھ سات سال کی بچی کو لے کر پالا۔تربیت کی ، پرورش کی، اُسے تعلیم دلوائی وری طور پر اس کی شادی کی اور اپنے خرچ پر اُس کی شادی کی۔ہمارے جو احمد يحيی صاحب ہیں Humanity First کے چئیر مین، یہ ان کی والدہ تھیں۔دوسر اجنازہ محمد سعید اشرف صاحب ابن چوہدری محمد شریف صاحب لاہور کا ہے۔یہ ایک سڑک عبور کرتے ہوئے 27 مارچ کو ایک ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گئے۔تین موٹر سائیکل سواروں نے آپ کو ٹکر ماری۔آپ اور آپ کی اہلیہ دونوں جارہے تھے۔اہلیہ کو تو چوٹیں لگیں۔یہ وہیں سائیڈ پر گر گئے اور موٹر سائیکل ان کے اوپر سے گزر گیا۔بہر حال سہارے سے اٹھے اور رکشہ کو رکوایا۔ہسپتال جا رہے تھے لیکن جب وہاں ہسپتال جا کے مرہم پٹی کی ہے تو ابھی دس منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ سانس رکنے لگا اور وہیں وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُوْن۔آپ کے نانا حضرت فضل دین صاحب اور نانی حسن بی بی صاحبہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔اور جماعت سے وفا اور خلافت سے انتہائی وفا اور اخلاص کا تعلق تھا۔جماعتی کاموں میں حصہ لینے والے