خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 162
خطبات مسرور جلد نهم 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء اس کی مزید وضاحت کہ حکمرانوں سے اختلاف کی صورت میں کیا کیا جائے؟ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ کیا حکمران صرف مسلمان ہیں جن کی اطاعت کرنی ہے۔یا یہ جو حکم ہے یہ دونوں کے لئے آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا ارشاد فرمایا؟ آپ نے پہلے خلفاء کی بابت فرمایا کہ ” میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اطاعت اور فرمانبرداری کو اپنا شیوہ بناؤ خواہ کوئی حبشی غلام ہی تم پر حکمران کیوں نہ ہو۔جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے ، وہ لوگوں میں بہت بڑا اختلاف دیکھیں گے۔پس ایسے وقت میں میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ تم میری سنت اور میرے بعد آنے والے خلفاء راشدین کی سنت کو اختیار کرنا۔تَمَسَّكُوا بِھا۔تم اس سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا اور جس طرح کسی چیز کو دانتوں سے پکڑ لیا جاتا ہے، اسی طرح اس سنت سے چھٹے رہنا اور کبھی اس راستے کو نہ چھوڑنا جو میرا ہے یا میرے خلفاء راشدین کا ہو گا“۔مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث ہے۔(مسند احمد بن حنبل - مسند العرباض بن ساريه جلد نمبر 5 صفحہ 842- حدیث نمبر 17275 عالم الكتب بيروت 1998ء) اور دنیاوی حکام کی بابت کیا تعلیم ہے؟ یہ بخاری میں ہی ہے۔فرمایا کہ ” تم میرے بعد ایسے حالات دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ بے انصافی ہو گی“۔( اس کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے۔جو دنیاوی حکام ہیں یہ اُن کے لئے ہے۔) ”تمہارے حقوق دبائے جائیں گے اور دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم نا پسند کرو گے۔صحابہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! ایسے حالات میں آپ ہمیں حکم کیا دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔اُن کا یعنی ایسے حکمرانوں کا حق اُنہیں دینا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا“۔(صحیح بخاری۔کتاب الفتن باب قول النبی الله سترون بعدی اموراً تنكرونها حديث 7052) مسلم میں بھی اس سے ملتی جلتی ایک حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خواہ حکمران بہت ظالم اور غاصب ہو ، اس کی اطاعت کرنی ہے۔(صحيح مسلم كتاب الامارة باب في طاعة الامراء وان منعوا الحقوق حديث4782) پس ظالم حکمران کی بھی اطاعت کا حق ادا کیا جائے۔اُس کے خلاف بغاوت نہ کی جائے اور اُس کی اطاعت سے انکار نہ کیا جائے۔بلکہ اُس کی تکلیف اور شر کے دور کرنے اور اُس کی اصلاح ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور تفرع کے ساتھ دعا کی جائے۔ایک احمدی کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اُس نے کن شرائط پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے ؟ شرط دوم مثلاً یہ ہے کہ جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتارہے گا۔اور نفسانی جو شوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگر چہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے“۔اور چوتھی شرط یہ ہے کہ ”یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جو شوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے “۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 مطبوعہ ربوہ)