خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 161
خطبات مسرور جلد نهم 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء یہ نیکی کے نمونے ہیں جو احمدیوں کو بھی قائم کرنے چاہئیں بلکہ احمدیوں کو ہی قائم کرنے چاہئیں۔أولى الأمر منكم سے مراد صرف مسلمان حکمران نہیں۔اس بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”بعض مسلمان غلطی سے اس آیت کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم صرف مسلمان حکام کے حق میں ہے کہ اُن کی اطاعت کی جاوے۔لیکن یہ بات غلط ہے اور قرآن کریم کے اصول کے خلاف ہے۔بیشک اس جگہ لفظ منکھ کا پایا جاتا ہے۔مگر منکھ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو تمہارے ہم مذہب ہوں بلکہ اس کے یہی معنی ہیں کہ جو تم میں سے بطور حاکم مقرر ہوں۔من ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کفار کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلُ مِنْكُمُ (الانعام : 131)۔اس آیت میں منکھ کے معنی اگر ہم مذہب کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نَعُوذُ بِالله مِنْ ذَالِكَ رسول کفار کے ہم مذہب تھے۔پس ضروری نہیں کہ منگھ کے معنی ہم مذہب کے ہوں۔یہ اور معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ حاکم جو تمہارے ملک کے ہوں یعنی یہ نہیں کہ جو حاکم ہو اُس کی اطاعت کرو بلکہ اُن کی اطاعت کرو جو تمہارا حاکم ہو۔اور فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ کے یہ معنی نہیں کہ قرآن و حدیث کی رُو سے فیصلہ کرلو۔بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر حکام کے ساتھ تنازع ہو جائے تو خدا اور اُس کے رسول کے احکام کی طرف اُس کو لوٹا دو۔اور وہ حکم یہی ہے کہ انسان حکومت وقت کو اُس کی غلطی پر آگاہ کر دے۔اگر وہ نہ مانے تو پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ کو چھوڑ دے۔وہ خود فیصلہ کرے گا اور ظالم کو اُس کے کردار کی سزا دے گا“۔جیسا کہ حضرت یوسف کے واقعہ میں بیان کر آیا ہوں، آپ بھی یہی دلیل دے رہے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ ” قرآنِ کریم میں حضرت یوسف کا واقعہ جس طرح بیان ہوا ہے وہ بھی دلالت کرتا ہے کہ حاکم خواہ کسی مذہب کا ہو اُس کی اطاعت ضروری ہے۔بلکہ اگر اُس کے احکام ایسے شرعی احکام کے مخالف بھی پڑ جاویں جن کا بجالانا حکومت کے ذمہ ہوتا ہے تب بھی اُس کی اطاعت کرے۔چنانچہ حضرت یوسف کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اُن کے بھائی اُن کے پاس چھوٹے بھائی کو لائے تو وہ اُن کو وہاں کے بادشاہ کے قوانین کی رو سے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے اس لئے خدا نے اُن کے لئے خود ایک تدبیر کر دی۔اسی طرح آپ آگے جا کر فرماتے ہیں کہ یہ جو آیت ہے اجعلني عَلى خَزَانِ الْأَرْضِ (یوسف: 56) اس کے نیچے تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے۔اس نے اس کی تفسیر بیان کی ہے۔یعنی اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”ظالم بلکہ کافر بادشاہ کی طرف سے عہدوں کا قبول کرنا اس شخص کے لئے جائز ہے جو اپنی جان پر اعتبار رکھتا ہے کہ وہ حق کو قائم رکھ سکے گا۔یاد رکھنا چاہئے کہ حق کے قیام سے یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی شریعت کو چلا سکے۔کیونکہ جیسا کہ حضرت یوسف کے بھائی کے معاملہ سے ظاہر ہے ، کافر کی ملازمت کے لئے یہ شرط نہیں کہ مومن اپنا ذاتی خیال چلا سکے۔پس حق کی حفاظت سے یہی مراد ہے کہ ظلم کی باتوں میں ساتھ شامل نہ ہو جائے۔پس حضرت یوسف کے معاملہ سے بھی ظاہر ہے کہ خواہ گورنمنٹ کا فر ہی کیوں نہ ہو، اُس کی وفاداری ضروری ہے۔“ ترک موالات اور احکام اسلام، بحوالہ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 259، 260 )