خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 160

خطبات مسرور جلد نهم 160 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء پھر قرآنِ کریم میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَ اَحْسَنُ تَأْوِيلاً (النساء : 60) اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”یعنی اللہ اور رسول اور اپنے بادشاہوں کی تابعداری کرو“۔یہ شہادۃ القرآن میں فرمایا۔شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 332) پھر ایک دفعہ فرمایا کہ : ” یعنی اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو“۔بادشاہوں کی اطاعت اختیار کرو۔(احکم 10 فروری 1901ء جلد 5 نمبر 5 صفحہ 1 کالم نمبر 2) پھر ایک جگہ فرماتے ہیں: ”اے مسلمانو ! اگر کسی بات میں تم میں باہم نزاع واقعہ ہو تو اس امر کو فیصلہ کے لئے اللہ اور رسول کے حوالہ کرو۔اگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان لاتے ہو تو یہی کرو کہ یہی بہتر اور احسن (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن۔جلد 3 - صفحہ 596) تاویل ہے“۔فرمایا کہ: ” یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رڈ کرو اور صرف اللہ اور رسول کو حکم بناؤ ، نہ کسی اور کو “۔الحق مباحثہ دہلی۔روحانی خزائن جلد 4۔صفحہ 184) اور اللہ اور رسول کا فیصلہ جیسا کہ پہلے میں بیان کر آیا ہوں یہی ہے کہ عام دنیاوی حالات میں ایک مومن پہ جو بھی حالات گزر جائیں تو بغاوت نہ کرو۔اگر کفر کو دیکھو یا کفر کا حکم سنو تو اطاعت اس حد تک واجب ہے جہاں تک اس کے علاوہ باتیں ہیں۔ان باتوں میں اطاعت نہیں ہے۔لیکن بغاوت کی تب بھی اجازت نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن شریف میں حکم ہے اَطِیعُوا اللَّهَ وَ اطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ - (النساء:60) یہاں اولی الامر کی اطاعت کا حکم صاف طور پر موجود ہے۔اور اگر کوئی شخص کہے کہ مینگھ میں گورنمنٹ داخل نہیں تو یہ اُس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو حکم شریعت کے مطابق دیتی ہے وہ اُسے منکم میں داخل کرتا ہے۔مثلاً جو شخص ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے اور اس کے حکم مان لینے چاہئیں“۔فرمایا: "اگر حاکم ظالم ہو تو اُس کو بُرا نہ کہتے پھر و بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو، خدا اُس کو بدل دے گا یا اُسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے۔ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے ، مؤمن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 171 مطبوعہ ربوہ) (الحکم 24 مئی 1901ء۔نمبر 19 جلد 5 صفحہ 9 کالم نمبر 2) b