خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد نهم 159 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء انبیاء کا حکومت وقت کی اطاعت کے بارے میں کیا نمونہ رہا ہے ؟ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک لاکھ چو میں ہزار انبیاء دنیا میں آئے۔(کنز العمال کتاب الفضائل باب الثانی فی فضائل سائر الانبیاء۔۔۔الفصل الثانی الا کمال جلد 6 صفحہ 219 حدیث 32274 دار الكتب العلمیة بیروت 2004ء) قرآنِ کریم نے دو درجن کے قریب انبیاء ہیں پچیس انبیاء کے حالات بیان فرمائے ہیں مگر کسی نبی کی بابت یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اُس نے دنیاوی معاملات میں اپنے علاقے کے حاکم وقت کی نافرمانی یا بغاوت کی ہے۔یا اُس کے خلاف اپنے متبعین کے ساتھ مل کر مظاہرے کئے ہوں یا کوئی توڑ پھوڑ کی ہو۔دینی امور کے بارے میں تمام انبیاء نے اپنے اپنے علاقوں کے حکمرانوں کے غلط عقائد کی کھل کر تردید کی اور سچے عقائد کی پرزور تبلیغ کی۔حضرت یوسف کی مثال لیتا ہوں جو عموما بیان کی جاتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے بیان کی ہے، حضرت مسیح موعود نے بھی، حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی۔اس کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغُفِلِينَ ( یوسف (4) کہ ہم نے جو یہ قرآن تجھ پر وحی کیا ہے اس کے ذریعے ہم تیرے سامنے ثابت شدہ تاریخی حقائق میں سے بہترین بیان کرتے ہیں۔جبکہ اس سے پہلے اس بارہ میں تو غافلوں میں سے تھا۔ثابت شدہ تاریخی حقائق کیا ہیں جو قرآن کریم واضح بیان فرمارہا ہے۔سورۃ یوسف میں جو اکثر حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پر مشتمل ہے ، ان حالات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کے کافر بادشاہ فرعونِ مصر کی کابینہ میں وزیر خزانہ کے طور پر ، مال کے نگر ان کے طور پر کام کیا۔اگر بادشاہ کو یہ خیال ہو تا کہ یوسف علیہ السلام اس کے وفادار نہیں ہیں اور نعوذ باللہ محض منافقانہ طور پر اس کی اطاعت کرتے ہیں تو وہ ہر گز اپنی کابینہ میں شامل نہ کرتا۔اور ویسے بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ خیال کرنا بھی بے ادبی میں داخل ہے کہ نعوذ باللہ وہ دل سے تو فرعونِ مصر کے خلاف بغض و عناد رکھتے تھے مگر ظاہری طور پر منافقانہ رنگ میں اُس کی اطاعت کرتے تھے اور اس سے وفاداری کا اظہار کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللہ (یوسف: 77)۔اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ اپنے بھائی کو بادشاہ کی حکمرانی میں روک لیتا سوائے اس کے کہ اللہ چاہتا۔یعنی حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ مصر کے قانون کے مطابق اپنے حقیقی بھائی کو مصر میں روکنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ حضرت یوسف علیہ السلام سے بھلوا کر شاہی پیمانہ جو تھا اپنے بھائی کے سامان میں رکھوا دیا اور تلاشی لینے پر اُن کے بھائی کے سامان میں سے ہی وہ پیمانہ نکل آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے کافر اور مشرک بادشاہ کے قانون کے پابند تھے۔دنیاوی معاملات میں حضرت یوسف علیہ السلام کا فر بادشاہ کے قانون کی پابندی اور وفاداری سے اطاعت کے باوجود دینی امور میں اس کے غلط عقائد کی پابندی اور اطاعت نہیں کرتے تھے۔