خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 158

خطبات مسرور جلد نهم 158 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء کرنے دیں گے تو وہ اُسے بھی ہلاک کر دیں گے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کر دیں گے۔(صحیح بخاری۔کتاب الشهادات باب القرعة فى المشكلات حديث 2686) اس حدیث سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ عوام بدی کرنے والوں کو ، بدی کے ارتکاب سے یا غلط کاموں سے زبر دستی روک دیں جو درست نہیں ہے کیونکہ اس طرح باہم جھگڑا اور فساد پیدا ہو جائے گا۔اگر اس سے مراد حکومت کے خلاف بغاوت میں تو وہ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ارشاد بات ہوتی ہے۔حدیث یہ ہے۔دوبارہ واضح کر دوں۔اگر کشتی والے اُن کا ہاتھ پکڑ لیں تو وہ اسے ڈوبنے سے بچائیں گے اور اپنے آپ کو بھی ڈوبنے سے بچالیں گے۔اگر چھوڑ دیں گے تو پیندے میں سوراخ ہو گا وہ آپ بھی ہلاک ہو گا، اُن کو بھی ہلاک کرے گا، اس سے ایک تو یہ لیا جاتا ہے کہ اگر کوئی فساد پیدا ہو رہا ہو ، اگر نقصان پہنچ رہا ہو تو اس کا قلع قمع کرنے کے لئے زبر دستی روک دینا جائز ہے لیکن یہ باقی احادیث سے خلاف ہے۔حکومتوں کے معاملے میں یہ چیز نہیں ہے۔اس کی تائید میں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث پیش کی جاتی ہے اور اُس کے حوالے سے یہ استنباط کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سختی کا حکم دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی کوئی بات فرما ہی نہیں سکتے جو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہو۔یقینا اس کے سمجھنے میں بھی لوگوں کو غلطی لگی ہے۔روایت یہ ہے۔ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم میں سے جو کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔اگر اسے طاقت نہ ہو تو پھر اپنی زبان سے اور یہ طاقت بھی نہ ہو تو پھر اپنے دل سے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔“ (صحیح مسلم کتاب الایمان۔باب بیان كون النهي عن المنكر من الايمان حديث 177) ( اس حدیث کی شرح میں ) امام مُلا علی قاری لکھتے ہیں، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ہمارے بعض علماء کہتے ہیں کہ ناپسندیدہ کام کو ہاتھ سے تبدیل کرنے کا حکم حکمرانوں کے لئے ہے۔زبان سے تبدیل کرنے کا حکم علماء کے لئے ہے اور دل سے ناپسندیدہ بات کو نا پسند کرنے کا حکم عوام مؤمنین کے لئے ہے۔(مرقاۃ شرح مشكاة جز 9 ـ كتاب الاداب باب الامر بالمعروف الفصل الاول حدیث 5137 صفحہ 324 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) پس یہ اس حدیث کی بڑی عمدہ وضاحت ہے کہ تین باتیں تو ہیں لیکن تین باتیں تین مختلف طبقوں کے لئے اور صاحب اختیار کے لئے ہیں۔وہاں بھی اگر کشتی میں روکنے کی بات ہے تو اس کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے صاحب اختیار کو ہی روکنے کا حکم ہے۔اگر ہر کوئی اس طرح روکنے لگ جائے گا تو پورا ایک فساد پیدا ہو جائے گا۔اور فساد اور بدامنی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۔سورۃ بقرۃ کی آیت 206 ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اگر یہ مراد لی جائے کہ عوام حکمران کی کسی بات کو نا پسند کریں تو وہ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور توڑ پھوڑ اور فتنہ و فساد اور قتل و غارت اور بغاوت شروع کر دیں تو یہ مفہوم بھی شریعت کی ہدایت کے مخالف ہے۔اس بارہ میں قرآنِ کریم کا جو حکم ہے ، فیصلہ ہے وہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں کہ وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْي (النحل: 91)