خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 157
157 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کہ تم اپنے آپ کو مسلمان نہ کہو تو ہم یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ہم مسلمان کہتے ہیں۔یا کلمہ نہ پڑھو۔ہم پڑھتے ہیں۔یا ایک دوسرے کو سلام نہ کہو، یا قرآن کریم نہ پڑھو۔تو یہ ہمارے مذہب کا اور دین کا معاملہ ہے۔اس بارہ میں جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے اطاعت کی ضرورت نہیں۔لیکن یہاں بھی ہم بغاوت نہیں کرتے۔صرف ان معاملوں میں ہم کبھی کسی قسم کے قانون کو مان ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ شریعت کا معاملہ ہے۔اللہ اور رسول کے حکموں کا معاملہ ہے۔جہاں تک ملک کے دوسرے قوانین کا تعلق ہے، اس کے باوجود ہر احمدی ہر قانون کی پابندی کرتا ہے۔ہمارے نظریہ کی تائید میں پرانے ائمہ میں سے بھی ایک کا حوالہ ہے جو میں پیش کرتا ہوں۔اس حدیث کی شرح میں حضرت امام النووی رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں کہ کفر بواح کا مطلب ظاہر کفر ہے، اور اس حدیث میں کفر سے مراد گناہ ہے“۔پھر مزید فرماتے ہیں کہ تم ارباب حکومت سے اُن کی حکومت کے اندر رہ کر جھگڑا نہ کرو اور نہ اُن پر اعتراض کر و۔سوائے اس کے کہ تم اُن سے کوئی ایسی بُری بات دیکھو جو ثابت اور متحقق ہو، جس کا بُرا ہونا تم اسلام کے قواعد یعنی قرآن اور حدیث کی رُو سے جانتے ہو۔اگر تم ایساد دیکھو تو اُن کی اس بات کا بُرا مناؤ اور تم جہاں بھی ہو حق بات کہو۔لیکن ایسے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا، اُن کے ساتھ لڑائی کرنا، مسلمانوں کے اجماع سے حرام ہے۔خواہ وہ حکمران فاسق اور ظالم ہوں“۔لکھتے ہیں کہ ”اس حدیث کا معنی جو میں نے بیان کیا ہے ، دیگر احادیث نبویہ اس کی تائید کرتی ہیں۔اہل سنت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ فسق کے بناء پر حکمر ان کو معزول کرنا جائز نہیں علماء کہتے ہیں کہ فاسق اور ظالم حکمران کو معزول نہ کرنے اور اُس کے خلاف لڑائی نہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ ایسی صورت میں مزید فتن ، خونریزی اور آپس میں فساد پیدا ہو گا۔پس فاسق اور ظالم حکمر ان کا بر سر اقتدار رہنا کم فساد پیدا کرے گا بہ نسبت اس کے جو اُسے معزول کرنے کی کوشش کے نتیجے میں پید ا ہو گا“۔(المنهاج بشرح صحيح مسلم كتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية صفحہ 1430 دار ابن حزم 2002ء) اور یہ بات آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سچ ثابت ہو رہی ہے۔دونوں طرف سے لڑائیاں ہو رہی ہیں۔بندوقیں چل رہی ہیں۔جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔پھر بخاری کی ایک حدیث ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حدود اللہ میں سستی کرنے والے اور حدود اللہ میں گر پڑنے والے افراد کی مثال اُس قوم کی طرح ہے جنہوں نے کشتی کی بابت قرعہ ڈالا جس کے نتیجے میں بعض کشتی کے اوپر والے حصے پر قیام پذیر ہوئے اور بعض کشتی کے نچلے حصے میں۔جب کشتی کے نچلے حصے والے لوگ اوپر والوں کے پاس سے پانی لے کر گزرتے تھے تو وہ اس سے تکلیف محسوس کرتے تھے۔جس پر نچلے حصے والوں میں سے ایک نے کلہاڑا پکڑا اور کشتی کے پیندے میں سوراخ کرنے لگا جس سے اوپر کے حصے والے اس کے پاس آئے اور اُس سے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے اوپر جا کر پانی لانے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور پانی کے بغیر میر اگزارا نہیں۔پس اگر اوپر والے اس کا ہاتھ پکڑ لیں تو وہ اُسے بھی ڈوبنے سے بچا لیں گے اور اپنے آپ کو بھی ڈوبنے سے بچالیں گے۔اگر وہ اسے چھوڑ دیں گے اور کشتی کے پیندے میں سوراخ