خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 153
خطبات مسرور جلد نهم 153 13 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء بمطابق یکم شہادت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: چند جمعہ پہلے فروری کے آخری جمعہ میں میں نے خطبہ میں عالم اسلام کے لئے دعا کی تحریک کرتے ہوئے احمدی کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہمارے پاس ذرائع نہیں ہیں، طاقت نہیں ہے، مسلمان ملکوں کے بادشاہوں تک کھل کر بر اور است آواز نہیں پہنچا سکتے کہ انہیں سمجھائیں کہ تم اپنے بادشاہ ہونے یا حکمران ہونے کا صحیح حق ادا کرو۔چند جگہوں پر ہو سکتا ہے کسی ذریعہ سے آواز پہنچ جائے لیکن واضح پیغام پہنچ سکے کہ نہ ، یہ علم نہیں۔بہر حال یہ میں نے اس لئے کہا تھا کہ احمدی جو دعا پر یقین رکھتے ہیں انہیں دعا کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان حکمرانوں کو عقل دے اور یہ اسلامی ممالک ہر قسم کی شکست وریخت سے بچ جائیں۔اسی طرح عوام کو بھی پیغام تھا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور اپنے ملکوں کو شدت پسندوں کی یا غیروں کی جھولی میں نہ گرائیں۔بہر حال میں اس خطبہ میں اِن ملکوں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی دوبارہ پیغام دیتا ہوں ، پہلے بھی پیغام دیا تھا کہ دعاؤں کی طرف توجہ دیں اور جس حد تک دونوں طرف کو یہ عقل دلا سکتے ہیں دلائیں کہ شدت پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور جو سب سے بڑا ہتھیار ہے وہ دعا ہے۔احمدیوں کی اکثریت نے اس پیغام کو سمجھ لیا تھا اور اللہ کے فضل سے احمدی تو عموماً اس توڑ پھوڑ میں حصہ نہیں لیتے۔اس لئے انہوں نے عموماًنہ فساد میں حصہ لیا، نہ جنگ و جدل میں حصہ لیا۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کے ذہنوں میں سوال اٹھتے ہیں کہ ہم جابر اور ظالم حکمران کے خلاف یا اس کی غلط پالیسیوں کے خلاف کس حد تک صبر دکھائیں ؟ کیا رد عمل ہمارا ہونا چاہئے ؟ یا بعض افریقن ممالک میں انتقالِ اقتدار میں روکیں ڈالنے والوں کے خلاف کیا رد عمل ہونا چاہئے ؟ مثلاً جس طرح آئیوری کوسٹ میں ہو رہا ہے کہ اقتدار منتقل نہیں ہو رہا۔اور کس حد تک احمدیوں کو باقی عوام کے ساتھ مل کر اس شدت پسندی میں شامل ہونا چاہئے جس کا رد عمل عوام دکھا رہے ہیں۔یا حکومت کے خلاف جلوسوں میں شامل ہونا چاہئے۔کیونکہ بعض پڑھے لکھے ہوئے بھی میرے پیغام کی روح کو نہیں سمجھے تھے اور سوال کرتے رہتے ہیں۔وہ بعض دفعہ دوٹوک