خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 151

151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اس قدر گداز ہیں کہ مجھے اُن کی قربانی کو دیکھ کر رشک آتا ہے اور میں انہیں خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتا ہوں۔کاش کہ ہماری جماعت کے دوسرے دوست اور خصوصاً تاجر پیشہ اصحاب اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن کے رنگ میں اخلاص دکھائیں“۔(الفضل 29 جنوری 1926ء جلد 13 شمارہ 81 صفحہ 2 کالم 1،2) یہ حضرت مصلح موعود کے الفاظ ہیں۔مولوی محمد اسماعیل صاحب یاد گیری کہتے ہیں کہ میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اس زمانے میں ان کی مالی قربانی کتنی ہوتی ہے پیسے تو اب رواج ہے ناں کہ ایک روپے میں سو پیسے۔اُس زمانے میں آنے ہوتے تھے اور سولہ آنے کا ایک روپیہ۔تو کہتے ہیں کہ میں نے حساب لگایا تو دیکھا کہ چودہ آنے یہ خدمت دین پر خرچ کرتے ہیں اور صرف دو آنے اپنی ضروریات کے لئے رکھتے تھے باوجود اس کے کہ بڑے کاروباری تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے دادا کے بارے میں ایک دفعہ فرمایا کہ ” تبلیغ احمدیت کے متعلق اُن کا جوش ایسا ہے جیسے مسیح موعود علیہ والسلام کے پرانے صحابہ مولوی برہان الدین صاحب وغیرہ میں تھا۔اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا جوش اس طرح ہے جیسے سیٹھ عبد الرحمن صاحب میں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس اللہ تعالیٰ نے سیٹھ عبد الرحمن اللہ رکھا کی شکل میں اپنے فرشتے بھجوائے تھے میرے پاس۔۔۔آپ کی شکل میں فرشتے بھجوائے ہیں“۔(تابعین اصحاب احمد۔جلد نہم۔صفحہ 348-349) تو یہ ہے مختصر ان کا تعارف اور خاندانی تعارف بھی۔ان کی سادگی اور بالکل عاجزی کا ایک واقعہ ان کے بیٹے نے یہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ یہ دہلی کے سٹیشن پر کھڑے تھے اور سرخ قمیض پہنی ہوئی تھی، اور جو قتلی ، مزدور سامان اٹھانے والے ہوتے ہیں ، اُن کی بھی سرخ قمیصیں ہوتی ہیں۔تو ایک فیملی آئی، انہوں نے سمجھا یہ تلی ہے، انہوں نے کہا یہ ہمارا سامان اٹھاؤ اور وہاں پہنچا دو۔انہوں نے بغیر کچھ کہے اُن کا سامان اٹھایا اور لے گئے۔یہ میں حافظ صالح الہ دین صاحب کی سادگی کی بات کر رہا ہوں جن کی ابھی وفات ہوئی ہے، تو یہ وہاں لے گئے سامان اتار کے جب اُس شخص نے مزدوری دینی چاہی تو کہنے لگے کہ آپ نے سامان پہنچانے کا کہا تھا میں نے آپ کی مدد کر دی ہے اس کی کوئی اجرت نہیں ہے۔وہ صاحب اس بات پر بڑے شر مندہ ہوئے۔یعنی کہ بالکل انتہائی عاجزی تھی۔یہاں بھی جلسہ پر پہلی دفعہ 2003ء میں جب آئے ہیں، یا پہلی دفعہ نہیں تو بہر حال 2003ء میں آئے تھے اور کچھ اُن کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی، ائیر پورٹ پر کچھ ٹرانسپورٹ کا انتظام صحیح نہیں تھا، بڑی دیر انتظار کرنا پڑا، پھر رہائش کا انتظام بھی ایسا نہیں تھا لیکن بغیر کسی شکوے کے انہوں نے جماعتی نظام کے تحت وہ دن گزارے۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے، ان کے بچوں کو بھی نیکیوں پر قائم رکھے۔اُن کا حافظ و ناصر ہو۔ان کی اہلیہ ان سے پہلے ہی وفات پاچکی ہیں۔ان کا جنازہ ابھی میں نمازوں کے بعد پڑھاؤں گا۔دوسرا جنازہ ہے کرنل محمد سعید صاحب ریٹائر ڈ کا ہے، یہ آج کل کینیڈا میں ہوتے تھے ، پاکستان جارہے