خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد نهم 144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء دوسر ا مر تبہ توحید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تمام کاروبار میں مؤثر حقیقی خدا تعالیٰ کو سمجھا جائے“ (یعنی نتیجہ پیدا کرنے والا، اثر ڈالنے والا حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے ) اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے شریک ٹھہر جائیں۔مثلاً یہ کہنا کہ زید نہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہو تا تو میں تباہ ہو جاتا۔اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے“۔فرمایا: ”تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔یہ توحید توریت میں کہاں ہے ؟ ایسا ہی توریت میں بہشت اور دوزخ کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا۔اور شاید کہیں کہیں اشارات ہوں۔ایسا ہی توریت میں خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔اگر توریت میں کوئی ایسی سورۃ ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں قُلْ هُوَ اللَّهُ اَحَدٌ۔اللَّهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص 52) ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رک جاتے۔ایسا ہی توریت نے حقوق کے مدارج کو پورے طور پر بیان نہیں کیا۔لیکن قرآن نے اس تعلیم کو بھی کمال تک پہنچایا ہے۔مثلاً وہ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَاي ذِي الْقُرْبَى (النحل: 91) یعنی خدا حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم احسان کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم لوگوں کی ایسے طور سے خدمت کرو جیسے کوئی قرابت کے جوش سے خدمت کرتا ہے۔یعنی بنی نوع سے تمہاری ہمدردی جوش طبعی سے ہو کوئی ارادہ احسان رکھنے کا نہ ہو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے ہمدردی رکھتی ہے “۔فرمایا: ” ایسا ہی توریت میں خدا کی ہستی اور اس کی واحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے نہیں دکھلایا۔لیکن قرآن شریف نے ان تمام عقائد اور نیز ضرورت الہام اور نبوت کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیا ہے اور ہر ایک بحث کو فلسفہ کے رنگ میں بیان کر کے حق کے طالبوں پر اس کا سمجھنا آسان کر دیا ہے اور یہ تمام دلائل ایسے کمال سے قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں کہ کسی کی مقدور میں نہیں کہ مثلاً ہستی باری پر کوئی ایسی دلیل پیدا کر سکے کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو“۔فرمایا: ”ماسوا اس کے قرآن شریف کے وجود کی ضرورت پر ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی تمام کتابیں موسیٰ کی کتاب توریت سے انجیل تک ایک خاص قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا مخاطب ٹھہراتی ہیں۔اور صاف اور صریح لفظوں میں کہتی ہیں کہ ان کی ہدایتیں عام فائدہ کے لئے نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کے وجود تک محدود ہیں۔مگر قرآن شریف کا مذ نظر تمام دنیا کی اصلاح ہے اور اس کی مخاطب کوئی خاص قوم نہیں بلکہ کھلے کھلے طور پر بیان فرماتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے اور ہر ایک کی اصلاح اس کا مقصود ہے“۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن۔جلد 13 صفحہ 83تا85) پس یہ ایک جھلک ہے اُس خزانے کی جو زمانے کے امام نے ہمیں قرآنِ کریم کی برتری کے بارہ میں بتائی ہے۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں، اور ہم خوش قسمت تبھی کہلا سکتے ہیں جب ہم اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کے حکموں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، دنیا کو دکھائیں کہ دیکھو یہ وہ روشن تعلیم ہے جس پر تمہیں اعتراض ہے۔تبھی ہم آخرین کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کر سکیں گے۔