خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد نهم 139 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء بمطابق 25 امان 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَرُوا ۖ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا (بنی اسرائیل: 42) وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءُ وَرَحْمَةُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ( بني اسرائيل: 83) مخالفین اسلام کو اسلام، قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنے دلوں کے بغض اور کینے نکالنے کا اُبال اٹھتارہتا ہے۔گذشتہ دنوں پھر یہ خبر تھی اور بعض مسلمان ممالک میں اس خبر کا بڑا سخت رد عمل ظاہر ہوا اور ہو رہا ہے۔جب ایک بد فطرت امریکی پادری نے جس نے ستمبر 2010ء میں قرآنِ کریم کے بارہ میں بیہودہ گوئی اور دریدہ دہنی کی تھی اور قرآنِ کریم کو جلانے کی باتیں کی تھیں۔اس وقت تو وہ کسی دباؤ کے تحت یہ ظالمانہ کام نہیں کر سکا تھا۔لیکن دو دن پہلے اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قرآنِ کریم کو جلانے کی مذموم حرکت کی ہے۔اور اپنی اس ناپاک حرکت کو جسٹیفائی ( Justify) اس طرح کرتا ہے، یہ ڈھکو سلا اس نے بنایا ہے کہ ایک جیوری بنائی جس کے بارہ ممبر تھے اور اُس میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کے لئے فریق کے طور پر ایک مسجد کے امام کو بھی بلایا گیا کہ قرآنِ کریم کا دفاع کرو۔اور چھ گھنٹے کے بعد جیوری نے فیصلہ کیا کہ نعوذ باللہ قرآنِ کریم شدت پسندی اور دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے اس لئے اس کو جلایا جائے۔خود ہی فریق ہیں اور خود ہی جج ہیں بلکہ کہنا چاہئے کہ خود ہی مجرم ہیں اور خود ہی منصف ہیں۔بہر حال اس پادری کی امریکہ میں کوئی ایسی حیثیت نہیں ہے کہ بہت ساری اُس کی following ہو ، بہت سارے اُس کے پیچھے چلنے والے ہوں، ماننے والے ہوں۔چند سو لوگ شاید اُس کے چرچ میں آنے والے ہیں۔وہ سستی شہرت کے لئے یہ ظالمانہ حرکتیں کر رہا ہے۔اخباروں اور میڈیا نے اس حرکت کو پھر اٹھایا ہے۔اصل میں تو میڈیا ہی ہے جو اس کو ہوا دے رہا ہے اور بجائے اس کے کہ امن کی کوشش کرے فساد کو ہوا دی جارہی ہے۔صرف اس لئے کہ اُن کی خبر دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچے اور اس طرح