خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 138

خطبات مسرور جلد نهم 138 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء پس بر صغیر کے مسلمانوں کو بھی ہوش کرنی چاہئے کہ وہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار بڑی شدت سے تنبیہ کی ہے اور آپ کی شدت میں بھی، تنبیہ میں بھی ایک ہمدردی کا پہلو ہے۔اس لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم بار بار ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کو ، دنیا کو توجہ دلاتے چلے جائیں کہ ہندوستان کے مسلمان بھی اپنی حالت بدلیں اور مسیح موعود کے خلاف اپنی دریدہ دہنی سے باز آئیں۔بنگلہ دیش کے مسلمان بھی اپنی زبانوں کو لگام دیں۔پاکستان کے مسلمان بھی ہوش کے ناخن لیں کہ آفات کو قریب سے دیکھ چکے ہیں۔پس خدا کا خوف کریں۔جزائر کے رہنے والوں پر جو آفات آئی ہیں اور جس حالت سے آجکل جاپان گزر رہا ہے اس حالت کو ہمارے لئے ، سب کے لئے، دنیا کے لئے عبرت حاصل کرنے والا ہونا چاہئے۔اللہ کرے کہ مسلمان اس حقیقت کو سمجھیں اور زمانے کے امام کے پیغام کو سمجھیں۔اب تو علاوہ آسمانی بلاؤں کے تقریباً ہر مسلمان ملک میں اپنے ہی مسائل اس قدر ہو چکے ہیں کہ ہر ایک ان مسائل میں الجھ گیا ہے۔یہ بھی ان ملکوں کے لئے ایک ابتلا بن چکا ہے۔عوام اور حکومت ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔مسلمان، مسلمان کا خون بہا رہا ہے۔اس سے بڑی بد قسمتی اور اس سے بڑا المیہ اور امت کے لئے کیا ہو سکتا ہے؟ کاش کہ ان کو سمجھ آجائے کہ اُمت کی بھلائی کے لئے جس کو خدا تعالیٰ نے بھیجا تھا بھیج دیا۔اب اگر عافیت چاہتے ہیں تو اسی کے دامن عافیت میں پناہ لیں۔اللہ کرے۔اللہ ان کو توفیق دے اور سمجھ دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حقیقی مسلمان بنائے اور ہمدردی کے جذبے سے حقیقی اسلام کے پیغام کو پہنچانے والے بنیں اور دعاؤں پر پہلے سے بڑھ کر زور دینے والے ہوں۔ایک افسوسناک خبر ہے۔ابھی جمعہ پر آنے سے پہلے مجھے ملی ہے کہ سانگھڑ میں ہمارے ایک نوجوان رانا ظفر اللہ صاحب ابن مکرم محمد شریف صاحب جو سانگھڑ کے قائد مجلس خدام الاحمدیہ اور سیکرٹری مال ضلع تھے ، اِن کو دو نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ رانا صاحب ایک جماعتی پروگرام میں شرکت کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔جب آپ گھر کے دروازے کے قریب پہنچے تو دو افراد نے فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ان کی فائرنگ سے آپ کے چہرے پر تین فائر لگے۔فائرنگ کی آواز سُن کر آپ کا چھوٹا بھائی گھر سے باہر آیا تو دیکھا کہ وہ زمین پر پڑے ہوئے تھے۔انہیں فوری طور پر گاڑی میں ڈال کر نوابشاہ لے جا رہے تھے لیکن راستے میں آپ نے شہادت کا رتبہ پایا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں ہیں۔رانا محمد سلیم صاحب شہید سانگھڑ کے آپ عزیز تھے۔گزشتہ کچھ عرصے میں، چند سال میں یہ سانگھڑ میں پانچویں شہادت ہے۔چھوٹی سی جماعت ہے لیکن جانی قربانی میں سب سے بڑھ کر ہے۔اللہ تعالیٰ وہاں کے احمدیوں کو بھی محفوظ رکھے اور دشمنوں کی پکڑ کے جلد سامان پیدافرمائے۔ان کے بچوں کا، ان کی اہلیہ کا حافظ و ناصر ہو۔صبر اور حوصلہ و ہمت عطا فرمائے۔اب نمازوں کے بعد میں ان کا جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 8 اپریل تا 14 اپریل 2011ء جلد 18 شمارہ 14 صفحہ 5 تا 8)