خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 134
خطبات مسرور جلد نهم 134 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء ایک ہزار روپیہ دے کر ( اُس زمانے میں ہزار روپیہ کی بڑی قیمت تھی) اس کا ترجمہ کروایا جائے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 373 حاشیہ) قرآنِ کریم کا ترجمہ بھی آج کل دوبارہ ری وائز (Revise) ہو رہا ہے اور اللہ کے فضل سے ہمارے مبلغ ضیاء اللہ صاحب اور ایک جاپانی احمدی دوست جو بڑے مخلص ہیں، وہ کر رہے ہیں اور تقریباً مکمل ہونے والا ہے۔یہاں میں جاپان سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی ایک رؤیا کا بھی ذکر کر دیتا ہوں۔یہ 1945ء کی بات ہے۔لمبی رؤیا ہے۔اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”خواب میں بتایا گیا ہے کہ جاپانی قوم جو اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہے۔اللہ تعالیٰ اُس کے دل میں احمدیت کی طرف رغبت پیدا کرے گا۔( یعنی روحانی لحاظ سے مردہ ہے) اور وہ آہستہ آہستہ پھر طاقت اور قوت حاصل کرے گی اور میری آواز پر اسی طرح لبیک کہے گی جس طرح پرندوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا تھا“۔( رؤیاد کشوف سید نا محمود صفحہ 296 تا 298۔الفضل 19 اکتوبر 1945ء صفحہ 2-1) تو رؤیا کا آپ نے یہ نتیجہ نکالا۔پس آج ہمارا یہ فرض ہے کہ اس طرف بہت زیادہ توجہ دیں جب کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات بھی پیدا کر رہا ہے۔خدمت کے مواقع بھی ہمیں ملتے رہتے ہیں۔تبلیغ کے بھی ملتے رہتے ہیں۔اس میں زیادہ بہتری اور زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔آج ہر قوم کو ہوشیار کرنا ہمارا کام ہے۔جاپان میں یہ جو زلزلہ اور سونامی آیا ہے بعض کہتے ہیں کہ ہزار سال کی تاریخ میں ایسا نہیں آیا۔جاپان دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں زلزلے آتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔اور یہ اپنی عمارتیں بھی ایسی بناتے ہیں جو زلزلے کو برداشت کرنے والی ہیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تقدیر چلتی ہے ، پھر کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔کہتے ہیں کہ انسانی سوچ ابھی تک ساڑھے سات یا آٹھ ریکٹر سکیل پر زلزلوں کو سہارنے کا انتظام کر سکتی ہے۔وہ عمارتیں وغیرہ بنا سکتی ہے جو سہار سکتی ہیں۔لیکن یہ زلزلہ جو آیا یہ تقریباً 9ریکٹر سکیل کا زلزلہ تھا۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا سمندری طوفان نے اس پر مزید تباہی مچادی اور پھر انسان جو سمجھتا ہے کہ میں نے بڑی ترقی کر لی ہے اور بعض چیزوں کو استعمال میں لا کر میں نئی نئی ایجادیں کر لیتا ہوں۔ایٹم کا استعمال ہے ، اس کو جاپان میں فائدے کے لئے استعمال میں لایا جا رہا ہے ، جاپانی ویسے تو ایٹم بم کے بڑے خلاف ہیں، کیونکہ ایک دفعہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی طرف سے اُن پر جو ایٹم بم پھینکے گئے تو اس کی وجہ سے بہت زیادہ رد عمل اور خوف ہے۔لیکن بہر حال وہ ایٹم سے انسانی فائدے کے لئے اور اپنی معیشت بہتر کرنے کے لئے کام لے رہے ہیں اور اس پر کام کر رہے ہیں۔لیکن اس زلزلے کے بعد ان ایٹمی ری ایکٹروں نے بھی تباہی پھیلائی ہوئی ہے۔ریڈی ایشن پھیلتی چلی جارہی ہے۔آج ہی مجھے جاپان سے فیکس آئی کہ جو ہیلی کاپٹر ہیں وہ ناکام ہو رہے تھے۔فائر بریگیڈ کے ٹینکوں کے ذریعے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح اُن ری ایکٹر ز کو ٹھنڈا رکھا جائے تاکہ ریڈی ایشن نہ پھیلے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور مزید تباہی سے اس ملک کو بچائے۔لیکن اپنے والنٹیئر ز کو میں نے پیغام دیا تھا کہ ان دنوں میں وہاں بلکہ عمومی طور پر جاپان میں رہنے والے احمد کی اور اُس علاقے میں رہنے والے ریڈیم برومائیڈ (Radium Bromide-CM) اور کار سینوسن (Carcinosan-CM)