خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد نهم 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء ظہور میں آجائیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی۔اور وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا۔کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد “۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20۔صفحہ 302 تا304) تو یہ آپ کا دعویٰ ہے۔اور جیسا کہ ایک مرتبہ پہلے بھی غالباً گزشتہ سال میں اسی حوالے سے بیان کر چکا ہوں کہ گزشتہ سوسال کے دوران جو آفات اور زلازل آئے ہیں وہ اس سے پہلے ریکارڈ نہیں ہوئے۔چھوٹے چھوٹے ( ریکارڈ) نہیں ہوئے لیکن جو پرانی بڑی بڑی آفتیں آئی ہیں وہ ریکارڈ میں موجود ہیں۔لیکن اتنی زیادہ نہیں جتنی اس سو سال میں۔اللہ تعالیٰ یہ نشان دنیا کے مختلف حصوں میں بار بار دکھا رہا ہے۔اس لئے بار بار ہمیں اس انذار کو اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے ایمانوں کو بھی مضبوط کر سکیں اور دنیا میں بھی اس پیغام کو پہنچانے کا حق ادا کر سکیں جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے۔آپ نے واضح فرمایا ہے کہ میر انشان میری زندگی کے بعد بھی ظاہر ہو تا رہے گا۔پس جس طرح شدت سے آپ نے دنیا کو اس نشان سے آگاہ کیا ہے ہمیں بھی دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ابھی گزشتہ ہفتے جاپان میں ایک شدید زلزلہ آیا اور ساتھ ہی سونامی بھی جس نے بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔زلزلے سے جو بستیاں تباہ ہوئی تھیں، انہیں پانی بہا کر کہیں کا کہیں لے گیا۔وہاں جو احمدی ہیں وہ اس علاقہ میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے جارہے تھے تو راستے سے اُن کو فون آیا کہ یہ جگہ جہاں سے ہم گزر رہے ہیں پہلے جب یہاں سے گزرا کرتے تھے تو ایک بستی تھی، ایک قصبہ تھا، پندرہ میں ہزار کی آبادی تھی اور اب ہم یہاں سے گزر رہے ہیں تو اس جگہ پہ اُس بستی کا کہیں نشان ہی نہیں۔اور جو سڑکیں ہیں وہ بھی بالکل ختم ہو چکی ہیں۔بڑی بڑی عمارتیں جو بہ گئیں تو سڑکوں کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔بہر حال اس خوف کے ساتھ ہمیں اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر عمل کرتے ہوئے دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو حق پہچانے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ آفات سے بچائے جائیں۔بجائے یہ کہ وہ آفتوں سے تباہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے سینے کھولے۔اور اس کے ساتھ ہی ہمیں پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے اور جاپانیوں کے بارہ میں تو خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حسن ظن ہے اور پیغام پہنچانے کی خواہش بھی تھی۔اس لئے جہاں یہ آفات، یہ زلزلے آتے ہیں وہاں اُن کے لئے ایک خوشخبری بھی ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس حسن ظن کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی تعلیم کو سمجھ لیں تو بچائے بھی جائیں۔اس لئے ہمیں بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔گو وہاں چھوٹی سی جماعت ہے لیکن جتنی بھی ہے اُسے اپنی پوری طاقتوں کے ساتھ بھر پور کوشش کرنی چاہئے کہ یہ پیغام جس حد تک وہ پھیلا سکتے ہیں پھیلائیں اور پہنچائیں۔اور ان حالات میں حکمت سے اسلام کا پیغام بھی پہنچائیں اور خدمت خلق بھی ساتھ ساتھ کرتے چلے جائیں۔خدمت خلق کا کام تو متاثرہ جگہوں پر ہمارے احمدی جیسا کہ میں نے کہا کہ کیمپ لگا کر کر رہے ہیں،