خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد نهم 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء فرستادے نے اپنی سچائی کے لئے ان زلزلوں کی پیشگوئی تو نہیں کی ؟ عرصہ ہوا غالباً یہ مولانا نذیر مبشر صاحب کے وقت کی بات ہے۔گھانا میں جب یہ مبلغ ہوتے تھے تو انہوں نے جب احمدیت اور اسلام کی اس علاقہ میں تبلیغ کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کا دعویٰ اور یہ نوید سنائی اور یہ تبلیغ کی تو گھانا کے اس علاقہ میں علماء نے اور اور بہت سارے پرانے لوگوں نے اُن کو کہنا شروع کیا کہ مسیح و مہدی کے آنے کی نشانی تو زلزلے ہیں۔اگر آپ کا بیان سچا ہے تو ہمارے ملک میں پھر زلزلے کا نشان دکھائیں۔اور گھانا ایسی جگہ ہے جہاں عمو ماز لزلے نہیں آتے۔چنانچہ آپ نے دعا کی اور اُس کے نتیجہ میں وہاں ایک زلزلہ آیا جس کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو گئی اور بہت سارے لوگوں نے عیسائیت میں سے احمدیت قبول کی۔مسلمانوں میں سے بھی احمدی مسلمان ہوئے۔جنہوں نے نہیں مانا ہو تا وہ تو نہیں مانتے لیکن بہر حال وہاں زلزلے کا ایک نشان مشہور ہو گیا۔(ماخوذ از روح پرور یادیں صفحہ 78-79) بہر حال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دعوی کو زلزلوں اور آفات کے ساتھ کس طرح جوڑا ہے۔اس کے بارے میں کیا بیان فرمایا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر حواد ر زلزلوں کے بارے میں آپ نے کیا پیشگوئی فرمائی ؟ آپ فرماتے ہیں کہ : حوادث کے بارے میں جو مجھے علم دیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ ہر ایک طرف دنیا میں موت اپنا دامن پھیلائے گی اور زلزلے آئیں گے اور شدت سے آئیں گے اور قیامت کا نمونہ ہوں گے اور زمین کو تہ و بالا کر دیں گے اور بہتوں کی زندگی تلخ ہو جائے گی۔پھر وہ جو توبہ کریں گے اور گناہوں سے دستکش ہو جائیں گے خدا اُن پر رحم کرے گا۔جیسا کہ ہر ایک نبی نے اس زمانے کی خبر دی تھی ضرور ہے کہ وہ سب کچھ واقع ہو۔لیکن وہ جو اپنے دلوں کو درست کر لیں گے اور اُن راہوں کو اختیار کریں گے جو خدا کو پسند ہیں اُن کو کچھ خوف نہیں اور نہ کچھ غم۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو میری طرف سے نذیر ہے۔میں نے تجھے بھیجا تا مجرم نیکو کاروں سے الگ کئے جائیں۔اور فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔میں تجھے اس قدر برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔فرماتے ہیں کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو ایک سخت زلزلہ ہو گا مجھے خبر دی اور فرمایا: ”پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی“۔اس لئے ایک شدید زلزلہ کا آنا ضروری ہے۔لیکن راستباز اُس سے امن میں ہیں۔سو راستباز بنو اور تقویٰ اختیار کرو تا بچ جاؤ۔آج خدا سے ڈرو تا اُس دن کے ڈر سے امن میں رہو۔ضرور ہے کہ آسمان کچھ دکھلاوے اور زمین کچھ ظاہر کرے۔لیکن خدا سے ڈرنے والے بچائے جائیں گے “۔فرماتے ہیں کہ ”خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اتریں گی۔کچھ تو ان میں سے میری زندگی میں