خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 126
126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ساری کامیابی اس (بات) میں ہے کہ انسان کے پیچھے اچھے قائم مقام رہ جائیں۔یہی چیز ہے جس کے لئے قومیں کوشش کیا کرتی ہیں۔یہی چیز ہے کہ اگر یہ قوم کو حاصل ہو جائے تو یہ بہت بڑا انعام ہے۔آج تک کبھی دنیا نے یہ محسوس نہیں کیا کہ ساری کامیابی فتوحات میں نہیں بلکہ نسل میں ہے۔اگر آئندہ نسل اعلیٰ اخلاق کی ہو تو وہ قوم مرتی کبھی نہیں بلکہ زندہ رہتی ہے۔اور اگر آئندہ نسل اچھی نہ ہو تو اس کی تمام فتوحات بیچ اور لغو ہیں۔پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ ”پس قوموں کی ترقی اُن کی آئندہ نسلوں کی ترقی پر منحصر ہوتی ہے۔اس لئے ہمارا زور اس بات پر ہونا چاہئے کہ آئندہ نسلوں میں ہم اپنے اچھے قائمقام چھوڑیں جو اسلام کی ترقی اور اسلام کے مستقبل کے ضامن ہوں۔سب سے زیادہ یہ چیز نکاح سے ہی حاصل ہوتی ہے“۔(نکاح کا خطبہ دے رہے ہیں فرمایا کہ اچھی نسل جو ہے سب سے زیادہ نکاح سے ہی حاصل ہوتی ہے ) اور نکاحوں سے ہی نئی نسل آتی ہے۔اس لئے نکاح انسانی زندگی کا سب سے اہم کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے بارہ میں استخارہ کرنے، غور و فکر سے کام لینے ( یہ بھی خاص طور پر نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کو اور خاندانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے) ”نکاح کے بارے میں استخارہ کرنے، غور و فکر سے کام لینے اور جذبات کی پیروی کرنے سے روکنے کی تعلیم دی ہے۔اور آپ نے فرمایا ہے کہ نکاح ایسے رنگ میں ہونے چاہئیں کہ نیک اور قربانی کرنے والی اولاد پیدا ہو۔پھر فرمایا ساری خرابی اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ اولاد کو مقدم رکھا جاتا ہے اور اس کی ناز بر داری کی جاتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ناز برداری کی وجہ سے دین کی روح اُن کے اندر سے مٹ جاتی ہے۔قرآنِ مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ شخص دین دار نہیں جو اپنی اولاد کی ناز برداری کرتا ہے اور اُس کو دین کے تابع نہیں رکھتا۔دین دار وہ ہے جو اپنی اولاد کو دین کے تابع رکھتا ہے۔جو شخص اپنی اولاد کو دین کے تابع رکھے گا وہ کبھی اپنی نسل کو خراب نہیں ہونے دے گا کیونکہ ناز برداری سے ہی نسلیں خراب ہوتی ہیں“۔پھر فرمایا ”پس اسلامی زندگی میں اہم ترین چیز نکاح ہے۔جیسے عمارت کے لئے بنیاد کھو دی جاتی ہے اور اس کو کاٹا جاتا ہے۔لیکن اگر بنیاد پختہ نہیں ہو گی تو عمارت گر جائے گی۔اسی طرح اگر نکاح میں غور و فکر اور دعا سے کام نہ لیا جائے تو نکاح بھی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔گویاوہ چیز جس سے خوشی ہو رہی ہوتی ہے در حقیقت وہی خطرے کا وقت ہوتا ہے۔۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بچوں کے نکاحوں میں کبھی بھی اس بات کو مد نظر نہیں رکھا کہ اُن کے نکاح آسودہ حال اور مالدار لوگوں میں کئے جائیں اور میں نے ہمیشہ جماعت کے لوگوں کو بھی یہی نصیحت کی ہے کہ جماعت کے لوگ اس بات کی طرف چلے جاتے ہیں کہ انہیں ایسے رشتے ملیں جو زیادہ کھاتے پیتے اور آسودہ حال ہوں۔ہمیں ایسے رشتے ملے ہیں مگر ہم نے اُن کو رڈ کر دیا تا کہ ہمارا جو معیار ہے وہ قائم رہے“۔( الفضل 6 اپریل 1945ء صفحہ 1 تا 3۔بحوالہ خطبات محمود جلد نمبر 3 فرمودہ 30 مارچ 1945ء صفحہ 609-616 مطبوعہ ربوہ) ہر ایک کو اپنے معیار کے مطابق رشتے کرنے چاہئیں۔پس یہ اصول ہیں جو عمومی طور پر بھی سامنے رکھنے چاہئیں۔رشتوں میں بھی یہ بات آئی تو میں نے تو سوچا کہ یہ بیان کر دوں کہ ہمارے ہاں آج کل یہ بڑے مسائل اُٹھ رہے ہیں۔اللہ کرے کہ حضرت مسیح موعود