خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 122
122 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دن اپنی چھوٹی بہو کو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مولود کا گھر دکھا دیا ہے۔اور پھر نقشہ بتایا کہ یہاں یہ کمرہ ہے۔اس طرح اُس کا نقشہ ہے۔اور بغیر دیکھے بالکل وہی نقشہ تھا جو بن رہا تھا۔ان کو سمجھایا بھی نہیں جا سکتا تھا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ سمجھایا جا سکے۔کوئی انہیں سمجھا سکے کہ کس طرح نقشہ ہے کیونکہ نظر بھی بہت کمزور تھی۔اُن کے بچوں کے سپر د جو بھی جماعتی کام ہو تا اُس کے لئے بہت دعا کرتے۔میرے ساتھ بھی دامادی کے بعد ایک خاص تعلق پیدا ہو گیا تھا۔میرے ذاتی اور جماعتی کاموں کے لئے بھی بہت دعائیں کیا کرتے تھے۔اور خلافت کے بعد تو اس تعلق میں ایک عقیدت، احترام اور دعاؤں کے لئے بہت زیادہ درد پیدا ہو گیا تھا۔جلسوں، تقریروں وغیرہ کی کامیابیوں کے لئے بہت دعا کیا کرتے تھے۔ایسے بزرگ تھے جن کی دعاؤں کی قبولیت کا احساس ہو رہا ہو تا تھا۔ہر دورے پر ایک خاص توجہ کے ساتھ میرے لئے دعا کیا کرتے تھے۔ہمارے محلے کے بعض خدام جو ہمارے عزیزوں، بچوں میں سے ہی ہیں ، رات کو محلے کی ڈیوٹیاں دیا کرتے تھے۔74ء میں حالات خراب ہوئے یا 74ء میں شاید یہ سندھ تھے۔خاص طور پر 84ء میں جب حالات زیادہ خراب ہوئے ، تو رات کو محلے کی ڈیوٹیاں ہوتی تھیں۔لڑکوں کو جاگنے کے لئے چائے کی عادت تھی، چائے پیا کرتے تھے تو ان کا گھر ہر وقت کھلا رہتا تھا۔بچے آتے تھے ، کچن سے چائے بنائی اور لے گئے۔جب انہوں نے دیکھا کہ لڑکے ڈیوٹی دے رہے ہیں اور چائے بھی پیتے ہیں تو رات خود اڑھائی بجے چائے بنا کر کھانے کی میز پر رکھ دیا کرتے تھے تا کہ اُن کو تکلیف نہ ہو اور وہ آکر لے جایا کرتے تھے۔اسی طرح کیونکہ رات کو بھی جلدی سونے کی عادت تھی اور پھر ڈیڑھ بجے اُٹھ جایا کرتے تھے۔سوتے بھی تھوڑا ہی تھے۔تہجد کے لئے اُٹھ جایا کرتے تھے اور اپنے لئے چائے بناتے تھے اور پھر ہماری خالہ کے لئے چائے بنا کے اُن کو تہجد کے لئے جگاتے۔اسی طرح جب ان کا چھوٹا بیٹا جامعہ میں داخل ہوا ہے تو اس کو با قاعدہ تہجد کے لئے اُٹھاتے اور اُس کو کہتے تمہاری چائے تیار ہے۔چائے پیو اور تہجد پڑھو۔جوانی سے ہی آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک سلوک رہا ہے۔سندھ میں رہے ہیں۔وہاں چھوٹے چھوٹے واقعات تو مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلاً ان کے ایک بیٹے نے لکھا کہ وہاں سانپ وغیرہ بہت ہوتے تھے اور جس زمانے میں یہ وہاں رہے ہیں، اُس زمانے میں تو نئی نئی آبادی ہو رہی تھی اور سانپ بہت زیادہ نکلا کرتے تھے اور بڑے بڑے خطرناک سانپ ہوتے تھے۔ایک دن کہتے ہیں میری طبیعت خراب تھی میں نے سوچا کہ فجر کی نماز گھر میں پڑھ لیتا ہوں لیکن پھر کسی غیبی طاقت نے مجھے کہا کہ نہیں، مسجد جاؤ۔ساتھ ہی مسجد ہے۔جب واپس آئے تو دیکھا کہ دو بڑے بچے (اس وقت چھوٹی عمر میں ان کے جو دو بڑے بچے تھے وہ ) چار پائی پر سورہے ہیں اور ایک بڑا سارا کالا ناگ چار پائی پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے تو انہوں نے فوراً اس کو مارا۔اگر یہ سو جاتے تو سانپ کچھ بھی نقصان پہنچا سکتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ کا اس طرح کا سلوک ہے اور اس طرح کے بہت سے واقعات ان کی زندگی میں ہیں۔سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور ان کے بھائی سید مسعود مبارک شاہ صاحب دونوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھے تھے۔وہیں سے انہوں نے بی۔اے کیا۔اپنی شرافت اور ڈسپلن کا پابند ہونے کی وجہ سے سٹاف اور طلباء