خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 113

113 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔پس ان دنوں میں خاص طور پر ، خاص طور پر دعاؤں پر ، دعاؤں پر بہت زور دیں۔اللہ تعالیٰ ہماری پردہ پوشی بھی فرمائے اور ہمارا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو ہمیں اس ترقی کو دیکھنے سے محروم رکھے۔آخر میں ایک افسوسناک اعلان ہے۔ایک جنازے کا اعلان ہے میں ابھی جمعہ کی نماز کے بعد جنازہ پڑھاؤں گا جو مکرم تراری مرزو کی صاحب المعروف امام اور لیس کا جنازہ ہے۔مراکش کے تھے۔گزشتہ دنوں پچھتر (75) سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔انہوں نے 2002ء میں بیعت کی تھی اور امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارا وفد ان کے پاس جاتا تھا۔بڑی تبلیغی نشستیں لگتی تھیں۔امام تھے اور بڑے صاحب علم آدمی ہیں۔میں اُن کو ملا ہوں۔تو یہ کوئی نہ کوئی راستہ نکلنے کا، فرار کا نکال لیتے تھے۔مانا نہیں ہو تا تھا۔علماء کی جس طرح ضد ہوتی ہے اس کا ان پر بھی اثر تھا۔بہر حال کہتے ہیں ایک دن تبلیغی نشست تھی، ہم بیٹھے تھے۔جنرل سیکر ٹری صاحب نے کہا کہ ان سے باتیں کر ناتو یہی ہے کہ پتھروں سے سر ٹکرانا۔تو ان کو چھوڑیں۔اُس پر یہ کہتے ہیں کہ میں نے اٹھتے ہوئے اُن کو اعجاز المسیح جو کتاب ہے وہ دے دی کہ اس کو پڑھیں اور چند دنوں کے بعد وہ آئے اور کہا کہ میری بیعت لے لیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔اور اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے فرانس میں Strasburg کی ائمہ کمیٹی کے مستقل رکن تھے اور مسلمانوں کی مسجد میں خطبہ بھی دیا کرتے تھے۔تمام ائمہ ان کی قابلیت اور ایمانداری کی تعریف کرتے تھے لیکن جب لوگوں کو ان کی احمدیت کا پتہ چلا تو سب نے مخالفت شروع کر دی جس پر انہوں نے خود ہی امامت کا کام چھوڑ دیا۔میری ملاقات اِن سے پہلی دفعہ 2003ء میں فرانس کے جلسے میں ہوئی تھی۔گزشتہ سال جب میں فرانس گیا ہوں تو ان کی کمزوری بہت زیادہ تھی اور نقاہت تھی۔بیماری بہت بڑھ گئی تھی۔Strasburg میں گیا ہوں وہاں تشریف لائے اور امیر صاحب کو کہا کہ آپ ہر دفعہ کہتے تھے کہ خلیفہ المسیح سے ملاقات کے لئے لندن چلو لیکن ڈاکٹر مجھے سفر کی اجازت نہیں دیتا تھا اور مجھے بہت زیادہ تکلیف بھی تھی لیکن اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے کیسا انتظام کیا ہے کہ خلیفہ وقت خود میرے پاس آگئے ہیں۔خلافت سے آپ کو بے پناہ عشق تھا۔قرآنِ مجید ہاتھ سے لکھ رہے تھے۔جب میں Strasburg گیا ہوں تو مجھے بھی انہوں نے بتایا کہ میں ہاتھ سے لکھ رہا ہوں۔ان کی لکھائی بھی اچھی تھی۔مجھے کہا کہ جب میں اسے ختم کرلوں گا تو میں آپ کو تحفے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں۔وفات کے وقت بھی ان کے سرہانے قرآنِ کریم اور صد سالہ جوبلی کا سود نیئر پڑا تھا۔عاملہ کے اجلاسات کے لئے اکثر اپنا گھر پیش کیا کرتے تھے۔Strasburg مسجد کے لئے جب چندے کی تحریک کی گئی تو جو بھی ان کے پاس رقم موجود تھی ساری کی ساری انہوں نے پیش کر دی۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور اُن کو اپنی رضا کی جنتوں میں بلند مقام عطا فرمائے۔ان کے بچے اور باقی عزیز رشتے دار تو احمدی نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی سینے کھولے اور اُن کو بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 25 مارچ تا 31 مارچ 2011 ، جلد 18 شماره 12 صفحہ 5 تا 8)