خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 112

112 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم فرمایا: ”اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلادے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔اور ہر ایک کو جو اُس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامر ادرکھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان۔کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا؟ پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ (يس:31)۔پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے رو بر و آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اُس کے ساتھ ہوں، اُس سے کون ٹھٹھا کرے گا؟ پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جو آب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اُن کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور اُن میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بد ظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں، سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بو یا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے“۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67،66) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی سچائی تو ہم دیکھ رہے ہیں۔آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا سلوک تو ہم دیکھ رہے ہیں۔آج اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ایشیا کے ممالک میں بھی اور جزائر میں بھی، یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی اور افریقہ کے سر سبز علاقوں میں بھی اور ریگستانوں کی دور دراز آبادیوں میں بھی احمدیت کو پھیلا دیا ہے ، اور بڑی شان سے نہ صرف پھیلا دیا ہے بلکہ بڑی شان سے پنپ رہی ہے، بڑھ رہی ہے اور پھیل رہی ہے۔ہر احمدی کی ہر قربانی ہمارے لئے نئی منزلوں کے حصول کا ہی ذریعہ بنتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا حصہ بننے کے لئے ، اپنے ایمانوں کی مضبوطی کے لئے پہلے سے بڑھ کر ہمیں دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اور کروٹ لے رہے ہیں یہ انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کے حق میں عظیم نظارے دکھانے والے بننے والے ہیں۔اور اس کے لئے بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے۔اپنی حالتوں