خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 111
111 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جائیں گے اور اُن کے ہلاک ہونے میں خوشی ہوگی کیونکہ دنیا کو بادشاہ عادل کے وجود کی بہت ضرورت ہے اور اُس کا مرنا ایک عالم کا مرنا ہے۔اگر چند چوہڑے اور چہار مر گئے تو ان کی موت سے کوئی خلل دنیا کے انتظام میں نہیں آ سکتا۔پس خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب اُس کے مرسلوں کے مقابل پر ایک اور فریق کھڑا ہو جاتا ہے تو گو وہ اپنے خیال میں کیسے ہی اپنے تئیں نیک قرار دیں انہیں کو خدا تعالیٰ تباہ کرتا ہے اور انہیں کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جس غرض کے لئے اپنے کسی مرسل کو مبعوث فرماتا ہے اُس کو ضائع کرے کیونکہ اگر ایسا کرے تو پھر وہ خود اپنی غرض کا دشمن ہو گا۔اور پھر زمین پر اُس کی کون عبادت کرے گا؟ دنیا کثرت کو دیکھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ یہ فریق بہت بڑا ہے ، سو یہ اچھا ہے“۔(یعنی بڑا ہونے کی وجہ سے یہی ٹھیک ہیں ) ” اور نادان خیال کرتا ہے کہ یہ لوگ ہزاروں لاکھوں مساجد میں جمع ہوتے ہیں، کیا یہ بُرے ہیں ؟ مگر خدا کثرت کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔خدا کے خاص بندوں میں محبت الہی اور صدق اور وفا کا ایک ایسا خاص نور ہوتا ہے کہ اگر میں بیان کر سکتا تو بیان کرتا لیکن میں کیا بیان کروں ؟ جب سے دنیا ہوئی اس راز کو کوئی نبی یار سول بیان نہیں کر سکا۔خدا کے باوفا بندوں کی اس طور سے آستانہ الہی پر روح گرتی ہے کہ کوئی لفظ ہمارے پاس نہیں کہ اس کیفیت کو دکھلا ( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن۔جلد 20 صفحہ 72،71) سکے “۔۔پس مخالفین کی ہزاروں کوششوں نے آپ کی ترقی میں ذرا سا بھی فرق نہیں ڈالا۔اس لئے کہ ان کے ہر مکر اللہ تعالیٰ اُن پر الٹا دیتا تھا اور آج تک یہ نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔اور جب تک ہم اپنے ایمانوں میں مضبوط رہیں گے ، ہم جماعتی ترقی کے نظارے دیکھتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے اور سر اسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔جو شخص مجھے کاٹنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اسکر یوطی اور ابو جہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے۔فرمایا کہ ”اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دُعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دُعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے۔اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔کاذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔میں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہو۔اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے“۔اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 400،399)