خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 110
110 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم نہج پر چلانے کی کوشش کریں جس کی نشاندہی اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی علیم نے فرما دی ہے اور جس کو کھول کر زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی موعود نے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔اگر ہم نے اس اصول کو حقیقت میں پکڑ لیا تو چاہے پاکستان کے طاقتور ہوں یا انڈو نیشیا کے یا بنگلہ دیش کے یا کسی عرب ملک کے یا کسی بھی ملک کے ہوں، وہ سب طاقتوں اور قدرتوں والے خدا کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔جس کے علم نے یہ لکھ چھوڑا ہے کہ اللہ والے ہی غالب آیا کرتے ہیں۔جن کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید ہو وہی غالب آیا کرتے ہیں۔پس ان مخالفین کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے اشارے کو سمجھیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں ورنہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے تو غالب آنا ہے۔اُس وقت کوئی عذر کام نہیں آئے گا کہ یہ وجہ ہو گئی اور وہ وجہ ہو گئی۔جب اللہ تعالیٰ کی آخری تقدیر چلتی ہے تو پھر سب کچھ فنا ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: ”خدا تعالیٰ ان متکبر مولویوں کا تکبر توڑے گا اور انہیں دکھلائے گا کہ وہ کیونکر غریبوں کی حمایت کرتا ہے اور شریروں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالتا ہے۔شریر انسان کہتا ہے کہ میں اپنے مکروں اور چالاکیوں سے غالب آجاؤں گا اور میں راستی کو اپنے منصوبوں سے مٹا دوں گا۔اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت اسے کہتی ہے کہ اے شریر میرے سامنے اور میرے مقابل پر منصوبہ باندھنا تجھے کس نے سکھایا؟ کیا تو وہی نہیں جو ایک ذلیل قطرہ رحم میں تھا؟ کیا تجھے اختیار ہے جو میری باتوں کو ٹال دے؟“۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 67) پھر آپ فرماتے ہیں: ”ہمیشہ یہ امر واقع ہوتا ہے کہ جو خدا کے خاص حبیب اور وفادار بندے ہیں اُن کا صدق خدا کے ساتھ اُس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا دار اندھے اُس کو دیکھ نہیں سکتے۔اس لئے ہر ایک سجادہ نشینوں اور مولویوں میں سے اُن کے مقابلہ کے لئے اُٹھتا ہے اور وہ مقابلہ اس سے نہیں بلکہ خد ا سے ہو تا ہے۔بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جس شخص کو خدا نے ایک عظیم الشان غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جس کے ذریعے سے خدا چاہتا ہے کہ ایک بڑی تبدیلی دنیا میں ظاہر کرے، ایسے شخص کو چند جاہل اور بزدل اور خام اور نا تمام اور بے وفازاہدوں کی خاطر سے ہلاک کر دے“۔فرمایا کہ ”اگر دو کشتیوں کا باہم ٹکراؤ ہو جائے“( دریا میں دو کشتیوں کا ٹکراؤ ہو جائے تو جن میں سے ایک ایسی ہے کہ اس میں بادشاہ وقت جو عادل اور کریم الطبع اور فیاض اور سعید النفس ہے، مع اپنے خاص ارکان کے سوار ہے۔اور دوسری کشتی ایسی ہے جس میں چند چوہڑے یا چمار یا سائنسی بد معاش بد وضع بیٹھے ہیں۔اور ایسا موقع آپڑا ہے کہ ایک کشتی کا بچاؤ اس میں ہے کہ دوسری کشتی مع اس کے سواروں کے تباہ کی جائے تو اب بتلاؤ کہ اُس وقت کو نسی کارروائی بہتر ہو گی ؟ کیا اس بادشاہ عادل کی کشتی تباہ کی جائے گی یا ان بد معاشوں کی کشتی کہ جو حقیر و ذلیل ہیں تباہ کر دی جائے گی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بادشاہ کی کشتی بڑے زور اور حمایت سے بچائی جائے گی اور اُن چوہڑوں چماروں کی کشتی تباہ کر دی جائے گی اور وہ بالکل لا پرواہی سے ہلاک کر دیئے