خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 108
108 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم افریقہ کے ایک ملک سے مربی صاحب نے لکھا کہ میں نے انٹرنیٹ پر انڈونیشیا کا یہ واقعہ دیکھا اور سخت بے چینی تھی، بڑی جذباتی کیفیت تھی۔میں اُس کو دیکھ کر روتا رہا۔کہتے ہیں کہ اُسی دن اتفاق سے شام کو علاقے کے بعض غیر از جماعت معززین اور اُن کے علماء کے ساتھ ایک تبلیغی نشست تھی تو کہتے ہیں کہ میں نے اُس میں ٹی وی پر یہ جو ساری بہیمانہ کارروائی ہوئی تھی اُس کی ریکارڈنگ لگا دی اور ان مہمانوں سے کہا کہ پہلے آپ یہ دیکھ لیں پھر بات شروع کرتے ہیں۔اور اس کی تفصیل بھی بتادی کہ احمدیوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ ریکارڈنگ لگائی ہے تو ابھی ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ ایک معلم (وہاں کے علماء جو مولوی یا امام ہیں اُن کو افریقہ میں معلم کہتے ہیں ) کھڑے ہو گئے اور اُن کا جو طریقہ ہے سر پر ہاتھ رکھ کے دھاڑیں مار مار کے رونے لگ گئے کہ یہ مسلمان ہیں جو یہ ظلم و بربریت کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی ال نیم کے نام پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ ایسے مسلمانوں کے اس اسلام سے تو میں تو بہ کرتا ہوں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ میں آج سے احمدی ہوں۔میری فوری بیعت لے لیں۔وہ مذ ہبی بحث تو بعد میں ہوئی تھی، جو مجلس لگنی تھی وہ تو بعد میں ہونی تھی، اُس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک بڑے امام کو ان کی حرکتیں دیکھ کے بیعت کرنے کی توفیق عطا فرما دی۔اور پھر کہتے ہیں کہ آگے انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی عہد کرتا ہوں کہ ان تین شہداء کے بدلے انشاء اللہ تعالیٰ میں تین گاؤں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی گود میں لاؤں گا۔اللہ تعالیٰ اُن کو توفیق عطا فرمائے۔تو دشمن چاہے چھپ کر تدبیر کرے، پیار بھرے انداز میں تدبیریں کرے یا کھل کر دشمنی کرے تا کہ یہ نبی کے ماننے والے خوفزدہ ہو کر یا کسی طریقے سے بھی پیچھے ہٹ جائیں لیکن مضبوط ایمان والوں کا خوفزدہ ہونا تو ایک طرف رہا ان کی تدبیریں نیک فطرتوں کے سینے فوراً کھول کر احمدیت کے حق میں ایسی ہوا چلاتی ہیں کہ جو کام ہمارے مبلغین سال میں نہیں کر سکتے وہ دشمنوں کے مکروں سے ہمارے حق میں ایک لمحے میں ہو جاتا ہے۔پس کون ہے جو خدا تعالیٰ کے کاموں کو روک سکے ؟ لیکن ان تکبر کرنے والوں کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ وہ اپنی سنت میں تبدیلی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کی سنت ایک اُس کی تقدیر غالب آنے کی سنت ہے اور دوسرے ایسے ظالموں کو تباہ کرنے کی سنت ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارنگ ہے کہ اگر پہلے لوگ اس مخالفت کی وجہ سے اپنے بد انجام کو پہنچے تو آج بھی وہی خدا ہے اور اُسی طاقتوں کے مالک خدا کے وعدے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیاز مین میں نہیں پھرے۔او لَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً (فاطر:45) که کیوں دیکھتے اور جائزہ نہیں لیتے کہ قوموں کی تباہی کی تاریخ تمہیں کیا بتا رہی ہے۔آج کل تو ٹی وی پروگراموں میں ، رسالوں میں، گھر بیٹھے ہی پرانے دفینوں کے نظارے ہو جاتے ہیں کہ کتنی قومیں تھیں جو مختلف آفات کی وجہ سے دفنا دی گئیں، پوری کی پوری بستیاں زمین میں دفن ہو گئیں۔بلکہ اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب زلزلے آتے ہیں تو کئی بستیاں دفن ہو جاتی ہیں۔تو عبرت حاصل کرنے والوں