خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 102

102 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بن رہی ہے جس کے لئے بہت فکر اور دعا کی ضرورت ہے۔اقتدار پر قبضے کے لئے ، وسائل پر قبضے کے لئے ، علاقے کی اہمیت کے پیش نظر ہر قوت جو ہے وہ وہاں پاؤں جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔مسلمان دنیا میں اندرونی اور بیرونی طاقتوں کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون ان چیزوں پر پہلے قبضہ کرتا ہے جس کی وجہ سے عوام پس رہے ہیں۔ملک چند قدم ترقی کر لیتا ہے تو پھر مفاد پرست قو میں یا قوتیں اُسے کئی قدم پیچھے لے جاتی ہیں۔ایک زمانے میں عراق کے متعلق کہتے تھے کہ اس طرح ترقی کر رہا ہے کہ وہاں جا کر لگتا ہے جیسے یورپ کے کسی ترقی یافتہ ملک میں آگئے ہیں، لیکن پھر گزشتہ میں سال کی بے چینی اور فساد اور جنگ نے اسے کھنڈر بنا دیا۔اور پھر اگر دیکھیں تو عراق کے ان حالات کے ساتھ عرب دنیا میں خاص طور پر اور بعض افریقن ممالک میں جو عربوں کے ساتھ لگتے ہیں عموماً بدامنی اور بے چینی زیادہ ہو گئی ہے۔بڑی طاقتیں وسائل اور علاقے کی اہمیت کے پیش نظر اپنے قدم جمانا چاہتی ہیں تو نام نہاد اسلامی تنظیمیں اپنا قبضہ جمانا چاہتی ہیں۔ملک کے عوام کو دونوں طرف سے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔اگر سیاستدان ایماندار ہوں، سر بر اہانِ مملکت اپنے عوام کی خیر خواہی نیک نیتی سے چاہتے ہوں، اُن کے حقوق کا تحفظ کریں تو نہ کبھی بے چینی پھیلے، نہ ہی شدت پسند تنظیموں کو ابھرنے کا موقع ملے ، نہ بیرونی طاقتیں غلط رنگ میں اپنے مفاد حاصل کر سکیں۔بہر حال مختصر یہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ جو ظلم ہر جگہ نظر آرہے ہیں دنیا کو تباہی کی طرف لے جاتے نظر آرہے ہیں۔اگر حقیقی تقویٰ پیدا نہ ہوا، انصاف قائم نہ ہوا تو آج نہیں تو کل یہ تباہی اور جنگ دنیا کو لپیٹ میں لے لے گی۔اور بعید نہیں کہ اس کے ذمہ دار یا وجہ بعض مسلمان ممالک ہی بن جائیں۔التقوى پس بہت فکر کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ اسلامی دنیا کو انصاف پسند اور تقویٰ پر چلنے والے رہنما عطا فرمائے۔جو قرآنی حکم وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المائدة: 3) پر عمل کرنے والے ہوں۔جو نیکی کے نام پر تعاون کرنے والے ہوں اور تعاون چاہنے والے ہوں۔جب وہ عوام سے تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے نیکی کے نام پر تعاون چاہیں گے ، جب وہ ہمسایوں سے نیکی کے نام پر تعلقات رکھیں گے، جب وہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے حقوق العباد ادا کر رہے ہوں گے تو امن بھی قائم ہو گا اور ملک بھی ترقی کریں گے۔بظاہر حالات ایسے ہیں کہ وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ (المائدة: 3) کی صورت نظر نہیں آتی بلکہ ہر طرف ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) کا نظارہ ہی نظر آرہا ہے۔ان حالات میں جیسا کہ میں نے کہا ہم دعائیں ہی کر سکتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ ایک محدود طبقے تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔آج احمد ی ہی اس دنیا کے امن کی ضمانت ہیں۔آج دنیا دنیاوی داؤ پیچ کو سب کچھ سمجھتی ہے لیکن احمدی جو زندہ خدا کے نشانوں کو دیکھتا ہے ، خدا تعالیٰ کی ذات پر انحصار کرتا ہے ، خدا تعالیٰ کی قدرت کے نظارے دیکھتا ہے ، خدا تعالیٰ کا خوف دلوں میں قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے لئے خدا کے آگے جھکنا ہی سب کچھ ہے۔ایک بنگالی پر وفیسر صاحب چند دن ہوئے مجھے ملنے آئے۔کہنے لگے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر جماعت احمدیہ اکثریت میں ہو گی، ہوتی ہے یا ہو جائے تو دوسرے فرقوں یا مذ ہبوں پر زیادتی نہیں ہو گی اور لوگوں کے حقوق نہیں دبائے جائیں گے ؟ تو میں نے اُن کو کہا کہ جو اکثریت دلوں کو جیت کر بنی ہو ، جو جبر کے بجائے محبت کا پیغام لے