خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 101
101 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم رد عمل ظاہر ہوا ہے اور پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ہو گیا ہے تو جابر بادشاہ بھی عوام کے حقوق کا نعرہ لگانے لگ گئے ہیں۔اگر پہلے ہی یہ خیال آجاتا تو نہ املاک کو اتنا نقصان پہنچتا، نہ ہی جانوں کا اتنا نقصان ہو تا۔اب لگتا ہے کہ ہر ملک ہی اس لحاظ سے غیر محفوظ ہو گیا ہے۔کونسی طاقتیں پیچھے کام کر رہی ہیں؟۔یہ حقیقت میں ملک میں امن لانے والی ہیں یا صرف کرسی پر قبضہ کرنے والی ہیں یا فساد پیدا کرنے والی ہیں ؟ سعودی عرب بھی جہاں مضبوط بادشاہت قائم ہے انہوں نے بھی ارد گرد کے ہمسایہ ملکوں کے عوام کا رویہ دیکھ کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم بھی اپنے عوام کو مزید سہولتیں دیں گے۔بہر حال اس صورتِ حال میں بعض قوتیں اُبھر رہی ہیں۔یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوتیں نئے ساز و سامان کے ساتھ میدان میں اترنے کی منصوبہ بندیاں کر رہی ہیں۔ایک تو وہ لوگ ہیں جو بڑی طاقتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تم نے اپنے سابقہ غلاموں کو دیکھ لیا ہے اب ہمیں بھی آزمالو۔یا سابقہ حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے سامنے کچھ لوگ رکھ دیئے ہیں جو اس وعدے کے ساتھ آرہے ہیں یا آئیں گے کہ حکومتی پالیسی وہی رہے گی اور تمہارے مفادات کی حفاظت بھی ہوتی رہے گی۔چہرے بدلنے سے عوام خوش ہو جائیں گے یا کچھ دیر کے لئے اُن کی تسلی ہو جائے گی اور بے چینی ختم ہو جائے گی۔لیکن اب جو سوچ لوگوں میں اُبھر رہی ہے اور اب جو احساس لوگوں میں پیدا ہو رہا ہے، تجزیہ نگاروں کے جو تجزیے پیش ہو رہے ہیں، وہ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں میں اتنا شعور پیدا ہو گیا ہے کہ وہ اس طریق کو اب زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ہو سکتا ہے بے چینی کا یہ سلسلہ لمبا چلتا چلا جائے۔دوسری جو خطر ناک بات ہے وہ یہ کہ ان حالات سے مذہبی شدت پسند گروپ جو ہے وہ بھی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے بلکہ کر رہے ہیں۔ابتدا میں عین ممکن ہے کہ انتہائی معتدل رویہ دکھائیں یا یہ اظہار کریں کہ ہم معتدل ہیں لیکن آہستہ آہستہ گھل کھیلیں گے۔جس سے مسلمانوں کے لئے دنیا میں مزید مشکلات کا دور شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ظاہر ہے بڑی طاقتیں اس کے مقابل پر جو ظاہری اور چھپی چھپی ہوئی حکمت عملی وضع کریں گی وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث ہو گی۔بڑی طاقتیں یہ کبھی برداشت نہیں کریں گی کہ بعض مخصوص علاقوں میں اُن کے مفادات متاثر ہوں۔بڑی طاقتوں کی آپس کی بھی خاموش یا سرد جنگ ہے جو آہستہ آہستہ دوبارہ اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے۔اس کے نتیجہ میں بے چینی اور فساد مختلف قسم کے گروپوں کی پشت پناہی سے پھیلتا چلا جائے گا۔آج کل بھی تیسری دنیا کے بعض غریب ملک ہیں بلکہ کہنا چاہئے کہ مسلمان ملک ہیں جن کے اندرونی فساد بڑی طاقتوں کے اپنے مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا مسلمان ممالک کا المیہ یہ ہے کہ عموماً جو رہنما ہیں وہ قومی اور ملکی مفادات کی حفاظت کا حق ادا نہیں کرتے۔آنا اور تکبر اور ذاتی مفادات کی وجہ سے غیر کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں اور پھر ملاں چونکہ تقویٰ سے عاری ہے اس لئے یہ مفاد پرست سیاستدانوں سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ملکی امن اور دنیا کے امن کے لئے بہت زیادہ خطر ناک ہو سکتا ہے۔اور یہ صورتِ حال ایسی بھیانک