خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 100

100 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے خبر دی گئی تھی۔خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا۔قریب تھا کہ تم کسی مہلک گڑھے میں جا پڑتے مگر اس کے باشفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اٹھالیا۔سو شکر کرو اور خوشی سے اچھلو جو آج تمہاری زندگی کا دن آ گیا۔خدا تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی، کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔وہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو جس میں موجودہ برکت کچھ بھی نہ ہو۔وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے نور پہنچاتا ہے“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 105،104) پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جوش نے جس خلیفہ اللہ کو بھیجا وہ تو ہمارے ایمان کے مطابق آنحضرت صلی یکم کی پیشگوئی کو پورا کرتے ہوئے ثریا سے زمین پر ایمان لے آئے اور اسلام کے حقیقی نور کو ہم پر آشکار کر دیا۔آپ کے بعد آپ کی خلافت کا سلسلہ بھی آپ کی پیشگوئی کے مطابق جاری ہو گیا۔اور اس نظام خلافت کے متعلق جیسا کہ آنحضرت صلی علی کرم نے فرمایا تھا، ہم نے حدیث پڑھی ہے، آپ نے یہ پیشگوئی بھی فرما دی ہے کہ ”جب میں جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی“۔(رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305) اور یہ بات جیسا کہ میں نے کہا آنحضرت صلی علی کرم نے بیان فرما دی ہے۔پس احمدی جہاں تک اس پیغام کو پہنچاسکتے ہیں ضرور پہنچائیں کہ اگر تمہیں اپنی بقا خلافت کی ڈھال میں نظر آرہی ہے تو یہ آنحضرت صلی الی یکم کی پیشگوئی کے مطابق جاری ہے۔اس کے لئے کسی پر جوش احتجاج کی ضرورت نہیں، کسی قسم کی گولیاں چلانے کی ضرورت نہیں۔اور یہ انعام اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ہی جاری ہو سکتا ہے اور جاری ہوا ہے ، نہ کہ عوامی کوششوں اور تحریکوں سے۔پس آؤ اور اس الہی نظام کا حصہ بن کر مسلم اللہ کی مضبوطی کا باعث بن جاؤ۔یہی طریق ہے جو اللہ تعالیٰ پر الله سة الله سل ایمان کامل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔یہی طریق ہے جس سے محبت رسول صلی علیہ کم اور اطاعت رسول صلی امید کم کا حقیقی اظہار ہوتا ہے۔اللہ کرے کہ مسلمانوں کو اس بنیادی نقطہ کی سمجھ آجائے اور ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے کی بجائے اللہ تعالی کے بتائے ہوئے طریق پر چلیں۔بہر حال یہ تو وہ ایک طریق ہے جو انہوں نے خود کہا کہ اس کا حل یہی ہے اور روحانی طریقہ ہے جو مسلم ائمہ کے لئے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے ضروری ہے۔جس کی طرف ہمیں جب بھی موقع ملے احمدی توجہ دلاتے رہتے ہیں اور توجہ دلاتے رہیں گے کہ مسیح و مہدی کو مان کر اپنی بقا کے سامان پیدا کرو۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا احمدی دُعا کی طرف بھی خاص طور پر متوجہ رہیں اور دنیاوی طور پر بھی سمجھاتے رہیں۔یہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہر مسلمان ملک کو ہوشمند ، انصاف پسند اور خدا کا خوف رکھنے والی لیڈر شپ عطا فرمائے۔ابھی تک تو جہاں بھی کسی قسم کی بے چینی ہے یا فی الحال بظاہر سکون ہے ، جو بھی حکمران ہیں ہمیں اُن کے اپنے ہی مفادات نظر آتے ہیں اور جو حکمران بننے والے نظر آرہے ہیں وہ بھی ویسے ہی نظر آرہے ہیں جو اپنے مفادات رکھنے والے ہیں۔چہرے بدل جاتے ہیں لیکن طور طریق وہی رہتے ہیں۔اب جب بعض ملکوں کے عوام کا