خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 96
96 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے بھائی ہیں۔ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے۔قرآنِ کریم بھی یہ فرماتا ہے کہ انما الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (الحجرات: 11) که مومن تو بھائی بھائی ہیں۔لیکن بعض ملکوں میں مثلاً مصر سے بھی اور دوسرے ملکوں سے بھی یہ خبریں آئی ہیں کہ حکومت نے قانونی اختیار کے تحت عوام کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ تو کی ہے لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ عوام کو بھی آپس میں لڑایا گیا ہے۔جو حکومت کے حق میں تھے انہیں اسلحہ دیا گیا۔گویا رعایا، رعایا سے لڑی اور اُس میں حکومت نے کردار ادا کیا۔مسلمان ملک اگر جمہوری طرزِ حکومت اپنانے کا اعلان کرتے ہیں تو پھر جب تک عوام کسی قسم کے پر تشدد احتجاج کا اظہار نہیں کرتے، اُس وقت تک حکومت کو بھی برداشت کرنا چاہئے۔لیکن خبروں کے مطابق تو ایسار عمل احتجاج پر بھی حکومتوں کی طرف سے ظاہر ہوا ہے جس نے سینکڑوں جانیں لے لی ہیں۔تو ایک طرف تو مغرب کی نقل میں جمہوریت کا نعرہ ہے اور دوسری طرف بر داشت بالکل نہیں ہے اور پھر مُستزاد یہ کہ مسلمان مسلمان پر ظلم کر رہا ہے۔اگر جمہوریت کی نقل کرنی ہے تو پھر بر داشت بھی پیدا کرنی چاہئے۔اسلامی ممالک کی تنظیم کو جو کر دار ادا کرنا چاہئے تھا وہ بھی انہوں نے نہیں کیا۔کوئی اصلاح کی کوشش نہیں ہوئی۔یہ سب کچھ گزشتہ چند ہفتوں میں مصر، تیونس یا لیبیا وغیرہ دوسرے ملکوں میں ہوا یا ہو رہا ہے۔یا جو کچھ ایک لمبے عرصے سے شدت پسندوں کے ہاتھوں افغانستان اور پاکستان میں ہو رہا ہے ، یہ سب عالم اسلام کی بد نامی کا باعث ہے۔یہ سب اُس بھائی چارے کی نفی ہو رہی ہے جس کا مسلمانوں کو حکم ہے کہ بھائی چارہ پیدا کر و۔یہ سب اس لئے ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ”اس وقت تقویٰ بالکل ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 22 مطبوعہ ربوہ) اُٹھ گیا ہے“۔پس اس وقت اسلام کی ساکھ قائم کرنے کے لئے، ملکوں میں امن پیدا کرنے کے لئے، عوام الناس اور اربابِ حکومت و اقتدار میں امن کی فضا پیدا کرنے کے لئے تقویٰ کی ضرورت ہے جس کی طرف کوئی بھی توجہ دینے کو تیار نہیں۔توجہ کی صرف ایک صورت ہے کہ تو بہ اور استغفار کرتے ہوئے ہر فریق خدا تعالیٰ کے آگے جھکے۔تقویٰ کے راستے کی تلاش کرے۔یہ دیکھے کہ جب ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : 42) یعنی خشکی اور تری میں فساد کی سی صورت حال پید اہو جائے تو کس چیز کی تلاش کرنی چاہئے۔قرآنِ کریم میں بھی اُس کا حل لکھا ہے۔آنحضرت صلی ا ہم نے بھی اس بات کو خوب کھول کر بیان فرمایا ہے کہ اس فساد کو دور کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ ہے اس زمانے میں آپ کے مسیح و مہدی کو قبول کر کے آپ صلی علیہ کم کا سلام پہنچانا۔جب تک اس طرف توجہ نہیں کریں گے ، دنیاوی لالچ بڑھتے جائیں گے۔اصلاح کے لئے راستے بجائے روشن ہونے کے اندھیرے ہوتے چلے جائیں گے۔اس کے علاوہ اب اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ تقویٰ کا حصول خدا تعالیٰ سے تعلق کے ذریعے سے ہی ملنا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے تعلق اُس اصول کے تحت ملے گا جس کی رہنمائی آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرما دی، اللہ تعالیٰ نے فرما دی۔گزشتہ دنوں کسی نے مجھے ایک website سے ایک پرنٹ نکال کر بھیجا جو انگلش میں تھا، جس میں