خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 95

95 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ااُتر آتا ہے۔اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ احمدی کو اسلامی دنیا کے لئے خاص طور پر بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس سے پہلے کہ ہر ملک اس لپیٹ میں آجائے اور پھر ظلموں کی ایک اور طویل داستان شروع ہو جائے۔خدا تعالیٰ حکومتوں اور عوام دونوں کو عقل دے اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اگر مسلمان لیڈر شپ میں تقویٰ ہوتا، حقیقی ایمان ہوتا تو جہاں سر بر اہانِ حکومت جو بادشاہت کی صورت میں حکومت کر رہے ہیں یا سیاستدان جو جمہوریت کے نام پر حکومت کر رہے ہیں، وہ اپنے عوام کے حقوق کا خیال رکھنے والے ہوتے۔پھر اسلامی ممالک کی ایک تنظیم ہے، یہ تنظیم صرف نام کی تنظیم نہ ہوتی بلکہ مسلمان ممالک انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہوتے نہ کہ اپنے مفادات کے لئے اندر خانے ایسے گروپوں کی مدد کرنے والے جو دنیا میں فساد پیدا کرنے والے ہیں۔اگر حقیقی تقویٰ ہو تا تو عالم اسلام کی ایک حیثیت ہوتی۔عالم اسلام اپنی حیثیت دنیا سے منواتا۔بڑ ا عظم ایشیا کا ایک بہت بڑا حصہ اور دوسرے بڑاعظموں کے بھی کچھ حصوں میں اسلامی ممالک ہیں، اسلامی حکومتیں ہیں۔لیکن دنیا میں عموماً ان سب ممالک کو غریب قوموں کی حیثیت سے جانا جاتا ہے یا غیر ترقی یافتہ قوموں کی حیثیت سے جانا جاتا ہے یا کچھ ترقی پذیر کہلاتی ہیں۔بعض جن کے پاس تیل کی دولت ہے ، وہ بھی بڑی حکومتوں کے زیر نگیں ہیں۔ان کے بجٹ، ان کے قرضے جو وہ دوسروں کو دیتے ہیں، اُن کی مددجو وہ غریب ملکوں کو دیتے ہیں، یا مدد کے بجٹ جو غریب ملکوں کے لئے مختص کئے ہوتے ہیں اُس کی ڈور بھی غیر کے ہاتھ میں ہے۔خوفِ خدا نہ ہونے کی وجہ سے ، خدا کے بجائے بندوں سے ڈرنے کی وجہ سے ، نااہلی اور جہالت کی وجہ سے اور اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے نہ ہی دولت کا صحیح استعمال اپنے ملکوں میں انڈسٹری کو ڈویلپ (Develop) کرنے میں ہوا ہے، نہ زراعت کی ترقی میں ہوا ہے۔حالانکہ مسلمان ممالک کی دولتِ مشتر کہ مختلف ملکوں کے مختلف موسمی حالات کی وجہ سے مختلف النوع فصلیں پیدا کرنے کے قابل ہے۔یہ ملک مختلف قدرتی وسائل کی دولت اور افرادی قوت سے اور زرخیز ذہن سے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔لیکن کیونکہ مفادات اور ترجیحات مختلف ہیں، اس لئے یہ سب کچھ نہیں ہو رہا۔آخر کیوں مسلمان ملکوں کے سائنسدان اور موجد اپنے زرخیز ذہن کی قدر ترقی یافتہ ممالک میں جا کر کرواتے ہیں۔اس لئے کہ ان کی قدر اپنے ملکوں میں اُس حد تک نہیں ہے۔اُن کو استعمال نہیں کیا جاتا۔اُن کو سہولتیں نہیں دی جاتیں۔جب اُن کے قدم آگے بڑھنے لگتے ہیں تو سر براہوں یا افسر شاہی کے ذاتی مفادات اُن کے قدم روک دیتے ہیں۔مسلمان ملکوں میں ملائشیا مثلاً بڑا ترقی یافتہ یا ٹیکنالوجی کے لحاظ سے آگے بڑھا ہوا سمجھا جاتا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک اُسے بھی ترقی پذیر ممالک میں ہی شمار کرتے ہیں۔بہر حال یہاں پھر وہی بات آتی ہے کہ تقویٰ کا فقدان ہے۔اور اس کے باوجود کہ تقویٰ کوئی نہیں ہے ہر بات کی تان اسلام کے نام پر ہی ٹوٹتی ہے۔قدریں بدل گئی ہیں۔اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں اپنی صحیح قدروں کی پہچان کرنی ہوگی۔اب آج کل کی صورت حال کس قدر فکر انگیز ہے۔کہاں تو مومن کو یہ حکم ہے کہ مومن ایک دوسرے مسلمان